سورہ 9 · پارہ 10

سورة التوبة · 9:43

عَفَا اللَّهُ عَنْكَ لِمَ أَذِنْتَ لَهُمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَتَعْلَمَ الْكَاذِبِينَ

اللہ تجھے معاف فرما دے، تو نے انہیں کیوں اجازت دے دی؟ بغیر اس کے کہ تیرے سامنے سچے لوگ کھل جائیں اور تو جھوٹے لوگوں کو بھی جان لے۔*
____________________
* یہ نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کو کہا جا رہا ہے کہ جہاد میں عدم شرکت کی اجازت مانگنے والوں کو تو نے کیوں بغیر یہ تحقیق کئے کہ اس کے پاس معقول عذر بھی ہے یا نہیں؟ اجازت دے دی۔ لیکن اس توبیخ میں بھی پیار کا پہلو غالب ہے، اس لئے اس کوتاہی پر معافی کی وضاحت پہلے کر دی گئی ہے۔ یاد رہے یہ تنبیہ اس لئے کی گئی ہے کہ اجازت دینے میں عجلت کی گئی اور پورے طور پر تحقیق کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ ورنہ تحقیق کے بعد ضرورت مندوں کو اجازت دینے کی آپ کو اجازت حاصل تھی۔ جیسا کہ فرمایا گیا ہے۔ «فَإِذَا اسْتَأْذَنُوكَ لِبَعْضِ شَأْنِهِمْ فَأْذَنْ لِمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ» ( النور -62) ”جب یہ لوگ تجھ سے اپنے بعض کاموں کی وجہ سے اجازت مانگیں، تو جس کو تو چاہے، اجازت دے دے“۔ جس کو چاہے کا مطلب یہ ہے کہ جس کے پاس معقول عذر ہو، اسے اجازت دینے کا حق تجھے حاصل ہے۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

43. May Allah forgive the Messenger for his decision to permit them to stay behind! Why did he do so before it became apparent to him who had real excuses and who was lying? Then he could have excused those who were telling the truth, not those who were lying.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں

سورة التوبة 9:43 · Tlawati