سورہ 9 · پارہ 10

سورة التوبة · 9:42

لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِيبًا وَسَفَرًا قَاصِدًا لَاتَّبَعُوكَ وَلَٰكِنْ بَعُدَتْ عَلَيْهِمُ الشُّقَّةُ ۚ وَسَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ يُهْلِكُونَ أَنْفُسَهُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ

اگر جلد وصول ہونے واﻻ مال واسباب ہوتا* اور ہلکا سفر ہوتا تو یہ ضرور آپ کے پیچھے ہو لیتے** لیکن ان پر تو دوری اور دراز کی مشکل پڑ گئی۔ اب تو یہ اللہ کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم میں قوت وطاقت ہوتی تو ہم یقیناً آپ کے ساتھ نکلتے، یہ اپنی جانوں کو خود ہی ہلاکت میں ڈال رہے ہیں*** ان کے جھوٹا ہونے کا سچا علم اللہ کو ہے۔
____________________
* یہاں سے ان لوگوں کا بیان شروع ہو رہا ہے جنہوں نے عذر اور معذرت کر کے نبی (صلى الله عليه وسلم) سے اجازت لے لی تھی دراں حالانکہ ان کے پاس حقیقت میں کوئی عذر نہیں تھا۔ ”عَرَضٌ“ سے مراد جو دنیاوی منافع سامنے آئیں مطلب ہے مال غنیمت۔
**- یعنی آپ (صلى الله عليه وسلم) کے ساتھ شریک جہاد ہوتے۔ لیکن سفر کی دوری نے انہیں حیلے تراشنے پر مجبور کر دیا۔
***- یعنی جھوٹی قسمیں کھا کر۔ کیونکہ جھوٹی قسم کھانا گناہ کبیرہ ہے۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

42. If the Prophet had called the hypocrites who asked for permission to stay behind to an easy reward and a journey that was not difficult, they would have followed him; but the distance he called them to cover to get to the enemy was too great for them, so they stayed behind. These hypocrites who asked for permission to stay behind would swear by Allah when the Prophet returned to them, saying that if they could have gone out to fight with them they would have done so. They destroy themselves by exposing themselves to Allah’s punishment, because they stayed behind and then swore a lie. Of course, Allah knew they were lying in what they claimed and in what they swore.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں