تفسير السعدي

سورة محمد · 47:33

۞ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ

اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کا کہا مانو اور اپنے اعمال کو غارت نہ کرو.*
____________________
* یعنی منافقین اور مرتدین کی طرح ارتداد ونفاق اختیار کرکے، اپنے عملوں کو برباد مت کرو۔ یہ گویا اسلام پر استقامت کا حکم ہے۔ بعض نےکبائر وفواحش کےارتکاب کو بھی حبط اعمال کا باعث گردانا ہے۔ اسی لئے مومنین کی صفات میں ایک صفت یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ وہ بڑےگناہ اور فواحش سے بچتے ہیں۔ (النجم: 32) اس اعتبار سے کبائر وفواحش سے بچنے کی اس میں تاکید ہے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کوئی عمل خواہ کتنا ہی بہتر کیوں نہ معلوم ہوتا ہو اگر اللہ اور اس کے رسول ﹲ کی اطاعت کے دائرے سے باہر ہے تو رائیگاں اور برباد ہے۔

یہ تفسیر عربی میں ہے۔ آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ المختصر انگریزی میں پڑھیں: المختصر (إنجليزي)

{٣٣} ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ﴾.
يأمر تعالى المؤمنين بأمر به تتم أمورهم، وتحصل سعادتهم الدينية والدنيوية، وهو: طاعته وطاعة رسوله في أصول الدين وفروعه، والطاعة هي امتثال الأمر، واجتناب النهي على الوجه المأمور به بالإخلاص وتمام المتابعة.
وقوله: ﴿وَلا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ﴾ يشمل النهي عن إبطالها بعد عملها، بما يفسدها، من من بها وإعجاب، وفخر وسمعة، ومن عمل بالمعاصي التي تضمحل معها الأعمال، ويحبط أجرها، ويشمل النهي عن إفسادها حال وقوعها بقطعها، أو الإتيان بمفسد من مفسداتها.
فمبطلات الصلاة والصيام والحج ونحوها، كلها داخلة في هذا، ومنهي عنها، ويستدل الفقهاء بهذه الآية على تحريم قطع الفرض، وكراهة قطع -[٧٩٠]- النفل، من غير موجب لذلك، وإذا كان الله قد نهى عن إبطال الأعمال، فهو أمر بإصلاحها، وإكمالها وإتمامها، والإتيان بها، على الوجه الذي تصلح به علما وعملا.

47:33 · تفسير السعدي