تفسير السعدي

سورة محمد · 47:32

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَشَاقُّوا الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَىٰ لَنْ يَضُرُّوا اللَّهَ شَيْئًا وَسَيُحْبِطُ أَعْمَالَهُمْ

یقیناً جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راه سے لوگوں کو روکا اور رسول کی مخالفت کی اس کے بعد کہ ان کے لئے ہدایت ﻇاہر ہو چکی یہ ہرگز ہرگز اللہ کا کچھ نقصان نہ کر سکیں گے*۔ عنقریب ان کے اعمال وه غارت کردے گا.**
____________________
* بلکہ اپنا ہی بیڑا غرق کریں گے۔
**- کیونکہ ایمان کے بغیر کسی عمل کی اللہ کے ہاں کوئی اہمیت نہیں۔ ایمان واخلاص ہی ہر عمل خیر کو اس قابل بناتا ہے کہ اس پر اللہ کے ہاں اجر ملے۔

یہ تفسیر عربی میں ہے۔ آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ المختصر انگریزی میں پڑھیں: المختصر (إنجليزي)

{٣٢} ﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَشَاقُّوا الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَى لَنْ يَضُرُّوا اللَّهَ شَيْئًا وَسَيُحْبِطُ أَعْمَالَهُمْ﴾.
هذا وعيد شديد لمن جمع أنواع الشر كلها، من الكفر بالله، وصد الخلق عن سبيل الله الذي نصبه موصلا إليه.
﴿وَشَاقُّوا الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَى﴾ أي: عاندوه وخالفوه عن عمد وعناد، لا عن جهل وغي وضلال، فإنهم ﴿لَنْ يَضُرُّوا اللَّهَ شَيْئًا﴾ فلا ينقص به ملكه.
﴿وَسَيُحْبِطُ أَعْمَالَهُمْ﴾ أي: مساعيهم التي بذلوها في نصر الباطل، بأن لا تثمر لهم إلا الخيبة والخسران، وأعمالهم التي يرجون بها الثواب، لا تقبل لعدم وجود شرطها.

47:32 · تفسير السعدي