سورہ 44 · پارہ 25
سورة الدخان · 44:18
أَنْ أَدُّوا إِلَيَّ عِبَادَ اللَّهِ ۖ إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو میرے حوالے کر* دو، یقین مانو کہ میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں.**
____________________
* عِبَادَ اللهِ سے مراد یہاں موسیٰ (عليه السلام) کی قوم بنی اسرائیل ہے جسے فرعون نے غلام بنارکھا تھا۔ حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے اپنی قوم کی آزادی کا مطالبہ کیا۔
**- اللہ کا پیغام پہنچانے میں امانت دار ہوں۔
____________________
* عِبَادَ اللهِ سے مراد یہاں موسیٰ (عليه السلام) کی قوم بنی اسرائیل ہے جسے فرعون نے غلام بنارکھا تھا۔ حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے اپنی قوم کی آزادی کا مطالبہ کیا۔
**- اللہ کا پیغام پہنچانے میں امانت دار ہوں۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
18. Moses said to Pharaoh and his people, “Leave the Israelites to me, because they are the servants of Allah; you have no right to take them as slaves. Indeed, I am a messenger to you from Allah, I am trustworthy in conveying what He has commanded me to convey. I will not take anything away from it nor add anything to it.”
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں