سورہ 41 · پارہ 24

سورة فصلت · 41:45

وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِيهِ ۗ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۚ وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ

یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی، سو اس میں بھی اختلاف کیا گیا اور اگر (وه) بات نہ ہوتی (جو) آپ کے رب کی طرف سے پہلے ہی مقرر ہو چکی ہے*۔ توان کے درمیان (کبھی کا) فیصلہ ہو چکا ہوتا**، یہ لوگ تو اس کے بارے میں سخت بےچین کرنے والے شک میں ہیں.***
____________________
* کہ ان کو عذاب دینے سے پہلے مہلت دی جائے گی۔ وَلَكِنْ يُؤَخِّرُهُمْ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى (فاطر، 45)
**- یعنی فوراً عذاب دے کر ان کو تباہ کردیا گیا ہوتا۔
***- یعنی ان کا انکار عقل و بصیرت کی وجہ سےنہیں، بلکہ محض شک کی وجہ سے ہے جو ان کو بےچین کئے رکھتا ہے۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

45. Verily I gave Moses the Torah and it was disagreed upon. Some believed in it, while others disbelieved in it. Had there not been a promise from Me that there will be judgement passed between the servants on the Day of Judgement in matters they disputed over, judgement would already have been passed upon those who disputed in the Torah. I would have made the ones on the truth clear from those on falsehood and honoured those on the truth whilst disgracing those on falsehood. Indeed, the disbelievers are definitely in suspicious doubts with regards the Qur’ān.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں