تفسير السعدي
سورة سبأ · 34:7
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍ يُنَبِّئُكُمْ إِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّكُمْ لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ
اور کافروں نے کہا* (آؤ) ہم تمہیں ایک ایسا شخص بتلائیں** جو تمہیں یہ خبر پہنچا رہا ہے*** کہ جب تم بالکل ہی ریزه ریزه ہوجاؤ گے تو تم پھر سے ایک نئی پیدائش میں آؤ گے.****
____________________
* یہ اہل ایمان کے مقابلے میں منکرین کا آخرت کا قول ہے جو آپس میں انہوں نے ایک دوسرے سے کہا۔
**- اس سے مراد حضرت محمد مصطفیٰ (صلى الله عليه وسلم) ہیں جو ان کی طرف اللہ کے نبی بن کر آئے تھے۔
***- یعنی عجیب وغریب خبر، ناقابل فہم خبر۔
****- یعنی مرنے کے بعد جب تم مٹی میں مل کر ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے، تمہاری ظاہری وجود ناپید ہوجائے گا، تمہیں قبروں سے دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور دوبارہ وہی شکل وصورت تمہیں عطا کردی جائے گی جس میں تم پہلے تھے۔ یہ گفتگو انہوں نے آپس میں استہزا اور مذاق کے طور پر کی۔
____________________
* یہ اہل ایمان کے مقابلے میں منکرین کا آخرت کا قول ہے جو آپس میں انہوں نے ایک دوسرے سے کہا۔
**- اس سے مراد حضرت محمد مصطفیٰ (صلى الله عليه وسلم) ہیں جو ان کی طرف اللہ کے نبی بن کر آئے تھے۔
***- یعنی عجیب وغریب خبر، ناقابل فہم خبر۔
****- یعنی مرنے کے بعد جب تم مٹی میں مل کر ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے، تمہاری ظاہری وجود ناپید ہوجائے گا، تمہیں قبروں سے دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور دوبارہ وہی شکل وصورت تمہیں عطا کردی جائے گی جس میں تم پہلے تھے۔ یہ گفتگو انہوں نے آپس میں استہزا اور مذاق کے طور پر کی۔
یہ تفسیر عربی میں ہے۔ آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ المختصر انگریزی میں پڑھیں: المختصر (إنجليزي)
{٧ - ٩} ﴿وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلَى رَجُلٍ يُنَبِّئُكُمْ إِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّكُمْ لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ﴾.
أي: ﴿وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ على وجه التكذيب والاستهزاء والاستبعاد، وذكر وجه الاستبعاد.
أي: قال بعضهم لبعض: ﴿هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلَى رَجُلٍ يُنَبِّئُكُمْ إِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّكُمْ لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ﴾ يعنون بذلك الرجل، رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأنه رجل أتى بما يستغرب منه، حتى صار - بزعمهم - فرجة يتفرجون عليه، وأعجوبة يسخرون منه، وأنه كيف يقول ﴿إِنَّكُمْ مَبْعُوثُونَ﴾ بعدما مزقكم البلى، وتفرقت أوصالكم، واضمحلت أعضاؤكم؟!.
أي: ﴿وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ على وجه التكذيب والاستهزاء والاستبعاد، وذكر وجه الاستبعاد.
أي: قال بعضهم لبعض: ﴿هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلَى رَجُلٍ يُنَبِّئُكُمْ إِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّكُمْ لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ﴾ يعنون بذلك الرجل، رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأنه رجل أتى بما يستغرب منه، حتى صار - بزعمهم - فرجة يتفرجون عليه، وأعجوبة يسخرون منه، وأنه كيف يقول ﴿إِنَّكُمْ مَبْعُوثُونَ﴾ بعدما مزقكم البلى، وتفرقت أوصالكم، واضمحلت أعضاؤكم؟!.