سورہ 34 · پارہ 22

سورة سبأ · 34:7

وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍ يُنَبِّئُكُمْ إِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّكُمْ لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ

اور کافروں نے کہا* (آؤ) ہم تمہیں ایک ایسا شخص بتلائیں** جو تمہیں یہ خبر پہنچا رہا ہے*** کہ جب تم بالکل ہی ریزه ریزه ہوجاؤ گے تو تم پھر سے ایک نئی پیدائش میں آؤ گے.****
____________________
* یہ اہل ایمان کے مقابلے میں منکرین کا آخرت کا قول ہے جو آپس میں انہوں نے ایک دوسرے سے کہا۔
**- اس سے مراد حضرت محمد مصطفیٰ (صلى الله عليه وسلم) ہیں جو ان کی طرف اللہ کے نبی بن کر آئے تھے۔
***- یعنی عجیب وغریب خبر، ناقابل فہم خبر۔
****- یعنی مرنے کے بعد جب تم مٹی میں مل کر ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے، تمہاری ظاہری وجود ناپید ہوجائے گا، تمہیں قبروں سے دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور دوبارہ وہی شکل وصورت تمہیں عطا کردی جائے گی جس میں تم پہلے تھے۔ یہ گفتگو انہوں نے آپس میں استہزا اور مذاق کے طور پر کی۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

7. Those who disbelieved in Allah say to one another in astonishment and mocking whatever the Messenger (peace be upon him) brought, “Shall we lead you to a man who will tell you that when you die and decompose into pieces, you will be resurrected alive again?!”

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں