سورہ 9 · پارہ 11

سورة التوبة · 9:101

وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ ۖ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ۖ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ ۖ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ ۚ سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَىٰ عَذَابٍ عَظِيمٍ

اور کچھ تمہارے گردوپیش والوں میں اور کچھ مدینے والوں میں ایسے منافق ہیں کہ نفاق پر اڑے* ہوئے ہیں، آپ ان کو نہیں جانتے**، ان کو ہم جانتے ہیں ہم ان کو دہری سزا دیں گے***، پھر وه بڑے بھاری عذاب کی طرف بھیجے جائیں گے۔
____________________
* مَرَدَ اور تَمَرَّدَ کے معنی ہیں نرمی ملائمت (چکناہٹ) اور تجرد۔ چنانچہ اس شاخ کو جو بغیر پتے کے ہو، وہ گھوڑا جو بغیر بال کے ہو، وہ لڑکا جس کے چہرے پر بال نہ ہوں، ان سب کو اَمْرَدُ کہا جاتا ہے اور شیشے کو صَرْح مُمَرَّد اَیْ مُجَرَّدً کہا جاتا ہے۔ ”مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ“ کے معنی ہوں گے تَجَرَّدُوا عَلیَ النِّفَاقِ، گویا انہوں نے نفاق کے لئے اپنے آپ کو خالص اور تنہا کر لیا، یعنی اس پر ان کا اصرار اور استمرار ہے۔
**- کتنے واضح الفاظ میں نبی (صلى الله عليه وسلم) سے علم غیب کی نفی ہے۔ کاش اہل بدعت کو قرآن سمجھنے کی توفیق نصیب ہو۔
***- اس سے مراد بعض کے نزدیک دنیا کی ذلت و رسوائی اور پھر آخرت کا عذاب ہے اور بعض کے نزدیک دنیا میں ہی دوہری سزا ہے۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

101. Some of those who live in the desert surrounding Medina are hypocrites, as are some of the people of Medina. They are firm and staunch in their hypocrisy. You, O Messenger, do not know them, but it is Allah Who knows them. Allah will punish them twice: once in this world by exposing their hypocrisy and by their being killed and taken captive, and again in the Afterlife when they will be punished in the grave. Then they will receive, on the Day of Judgement, a great punishment in the lowest level of the fire of Hell.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں