سورہ 8 · پارہ 9
سورة الأنفال · 8:7
وَإِذْ يَعِدُكُمُ اللَّهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ وَيُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكَافِرِينَ
اور تم لوگ اس وقت کو یاد کرو! جب کہ اللہ تم سے ان دو جماعتوں میں سے ایک کا وعده کرتا تھا کہ وه تمہارے ہاتھ آجائے گی* اور تم اس تمنا میں تھے کہ غیر مسلح جماعت تمہارے ہاتھ آجائے** اور اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ اپنے احکام سے حق کا حق ہونا ﺛابت کردے اور ان کافروں کی جڑ کاٹ دے۔
____________________
* یعنی یا تو تجارتی قافلہ تمہیں مل جائے گا، جس سے تمہیں بغیر لڑائی کے وافر مال واسباب مل جائے گا، بصورت دیگر لشکر قریش سے تمہارا مقابلہ ہوگا اور تمہیں غلبہ ہوگا اور مال غنیمت ملے گا۔
**- یعنی تجارتی قافلہ، تاکہ بغیر لڑے مال ہاتھ آجائے۔
____________________
* یعنی یا تو تجارتی قافلہ تمہیں مل جائے گا، جس سے تمہیں بغیر لڑائی کے وافر مال واسباب مل جائے گا، بصورت دیگر لشکر قریش سے تمہارا مقابلہ ہوگا اور تمہیں غلبہ ہوگا اور مال غنیمت ملے گا۔
**- یعنی تجارتی قافلہ، تاکہ بغیر لڑے مال ہاتھ آجائے۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
7. Allah reminds the believers who were arguing about when Allah promised them success over one of the groups of the idolaters: either the caravan with its sizeable wealth, so that they could take its bounty, or a group of fighters whom they would encounter and achieve victory over them; but they had wanted it to be the caravan, as this would be easy to take without having to fight. Yet Allah willed for the truth to be established through commanding them to fight, to kill the leaders of the idolaters, and to capture many of them so that the strength of Islam would become clear.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں