سورہ 8 · پارہ 9
سورة الأنفال · 8:6
يُجَادِلُونَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُونَ
وه اس حق کے بارے میں، اس کے بعد کہ اس کا ﻇہور ہوگیا تھا* آپ سے اس طرح جھگڑ رہے تھے کہ گویا کوئی ان کو موت کی طرف ہانکے لیے جاتا ہے اور وه دیکھ رہے ہیں۔**
____________________
* یعنی یہ بات ظاہر ہوگئی تھی کہ قافلہ تو بچ کر نکل گیا ہے اور اب لشکر قریش ہی سامنے ہے جس سے لڑائی ناگزیر ہے۔
**- یہ بے سروسامانی کی حالت میں لڑنے کی وجہ سے بعض مسلمانوں کی جو کیفیت تھیں، اس کا اظہار ہے۔
____________________
* یعنی یہ بات ظاہر ہوگئی تھی کہ قافلہ تو بچ کر نکل گیا ہے اور اب لشکر قریش ہی سامنے ہے جس سے لڑائی ناگزیر ہے۔
**- یہ بے سروسامانی کی حالت میں لڑنے کی وجہ سے بعض مسلمانوں کی جو کیفیت تھیں، اس کا اظہار ہے۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
6. This group of the believers argued with the Messenger about fighting the idolaters, after it had been made clear to them that it had to happen, as if they were being driven to death, looking at it with open eyes. Their reaction was due to their strong dislike of going out to fight, because they were not prepared or ready for it.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں