سورہ 67 · پارہ 29
سورة الملك · 67:30
قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ يَأْتِيكُمْ بِمَاءٍ مَعِينٍ
آپ کہہ دیجئے! کہ اچھا یہ تو بتاؤ کہ اگر تمہارے (پینے کا) پانی زمین میں اتر جائے تو کون ہے جو تمہارے لیے نتھرا ہوا پانی ﻻئے؟*
____________________
* غَوْرًا کے معنی ہیں خشک ہو جانا یا اتنی گہرائی میں چلا جانا کہ وہاں سے پانی نکالنا ناممکن ہو۔ یعنی اگر اللہ تعالٰی پانی خشک فرما دے کہ اس کا وجود ہی ختم ہو جائے یا اتنی گہرائی میں کر دے کہ ساری مشینیں پانی نکالنے میں ناکام ہو جائیں تو بتلاؤ! پھر کون ہے جو تمہیں جاری، صاف اور نتھرا ہوا پانی مہیا کر دے؟ یعنی کوئی نہیں ہے۔ یہ اللہ کی مہربانی ہے کہ تمہاری معصیتوں کے باوجود وہ تمہیں پانی سے بھی محروم نہیں فرماتا۔
____________________
* غَوْرًا کے معنی ہیں خشک ہو جانا یا اتنی گہرائی میں چلا جانا کہ وہاں سے پانی نکالنا ناممکن ہو۔ یعنی اگر اللہ تعالٰی پانی خشک فرما دے کہ اس کا وجود ہی ختم ہو جائے یا اتنی گہرائی میں کر دے کہ ساری مشینیں پانی نکالنے میں ناکام ہو جائیں تو بتلاؤ! پھر کون ہے جو تمہیں جاری، صاف اور نتھرا ہوا پانی مہیا کر دے؟ یعنی کوئی نہیں ہے۔ یہ اللہ کی مہربانی ہے کہ تمہاری معصیتوں کے باوجود وہ تمہیں پانی سے بھی محروم نہیں فرماتا۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
30. O Messenger! Say to these idolaters: “Tell me, if the water you drink from was to seep away into the earth and you could not get to it, who then would bring you abundant, flowing water?” No one other than Allah could.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں