سورہ 67 · پارہ 29

سورة الملك · 67:27

فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَقِيلَ هَٰذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَدَّعُونَ

جب یہ لوگ اس* وعدے کو قریب تر پالیں گے اس وقت ان کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے** اور کہہ دیا جائے گا کہ یہی ہے جسے تم طلب کیا کرتے تھے.***
____________________
* رَأوهُ میں ضمیر کا مرجع اکثر مفسرین کے نزدیک عذاب قیامت ہے۔
**- یعنی ذلت اور ہولناکی اور دہشت سے ان کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی ہونگی۔ جس کو دوسرے مقام پر چہروں کے سیاہ ہونے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (آل عمران:106)
***- تدَّعُونَ اور تُدْعَوْنَ کے ایک ہی معنی ہیں۔ یعنی یہ عذاب جو تم دیکھ رہے ہو وہی ہے جسے تم دنیا میں جلد طلب کرتے تھے۔جیسے سورۂ ص:16۔ اور الانفال: 32 وغیرہ میں ہے۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

27. So when the promise will come upon them and they will see the punishment close to them on the Day of Judgement, the faces of those who disbelieved in Allah will change and become dark. And it will be said to them, “This is what you used to ask for and want hastily!”

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں