تفسير السعدي

سورة الملك · 67:21

أَمَّنْ هَٰذَا الَّذِي يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ ۚ بَلْ لَجُّوا فِي عُتُوٍّ وَنُفُورٍ

اگر اللہ تعالیٰ اپنی روزی روک لے تو بتاؤ کون ہے جو پھر تمہیں روزی دے گا*؟ بلکہ (کافر) تو سرکشی اور بدکنے پر اڑگئے ہیں.**
____________________
* یعنی اللہ بارش نہ برسائے، یا زمین ہی کو پیداوار سے روک دے یا تیار شدہ فصلوں کو تباہ کر دے، جیسا کہ بعض بعض دفعہ وہ ایسا کرتا ہے، جس کی وجہ سے تمہاری خوراک کا سلسلہ موقوف ہو جائے، اگر اللہ تعالٰی ایسا کر دے تو کیا کوئی اور ہے جو اللہ کی مشیت کے برعکس تمہیں روزی مہیا کر دے؟
**- یعنی وعظ ونصیحت کی ان باتوں کا ان پر کوئی اثر نہیں پڑتا بلکہ وہ حق سے سرکشی اور اعراض ونفور میں ہی بڑھتے چلے جا رہے ہیں عبرت پکڑتے ہیں اور نہ ہی غور و فکر کرتے ہیں۔

یہ تفسیر عربی میں ہے۔ آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ المختصر انگریزی میں پڑھیں: المختصر (إنجليزي)

{٢٠ - ٢١} ﴿أَمَّنْ هَذَا الَّذِي هُوَ جُنْدٌ لَكُمْ يَنْصُرُكُمْ مِنْ دُونِ الرَّحْمَنِ إِنِ الْكَافِرُونَ إِلا فِي * أَمَّنْ هَذَا الَّذِي يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ بَلْ لَجُّوا فِي عُتُوٍّ وَنُفُورٍ﴾.
يقول تعالى للعتاة النافرين عن أمره، المعرضين عن الحق: ﴿أَمَّنْ هَذَا الَّذِي هُوَ جُنْدٌ لَكُمْ يَنْصُرُكُمْ مِنْ دُونِ الرَّحْمَنِ﴾ أي: ينصركم إذا أراد بكم الرحمن سوءًا، فيدفعه عنكم؟ أي: من الذي ينصركم على أعدائكم غير الرحمن؟ فإنه تعالى هو الناصر المعز المذل، وغيره من الخلق، لو اجتمعوا على نصر عبد، لم ينفعوه مثقال ذرة، على أي عدو كان، فاستمرار الكافرين على كفرهم، بعد أن علموا أنه لا ينصرهم أحد من دون الرحمن، غرور وسفه.
﴿أَمَّنْ هَذَا الَّذِي يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ﴾ أي: الرزق كله من الله، فلو أمسك عنكم رزقه، فمن الذي يرسله لكم؟ فإن الخلق لا يقدرون على رزق أنفسهم، فكيف بغيرهم؟ فالرزاق المنعم، الذي لا يصيب العباد نعمة إلا منه، هو الذي يستحق أن يفرد بالعبادة، ولكن الكافرون ﴿لَجُّوا﴾ أي: استمروا ﴿فِي عُتُوٍّ﴾ أي: قسوة وعدم لين للحق ﴿وَنُفُورٍ﴾ أي: شرود عن الحق.

67:21 · تفسير السعدي