سورہ 67 · پارہ 29
سورة الملك · 67:15
هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِنْ رِزْقِهِ ۖ وَإِلَيْهِ النُّشُورُ
وه ذات جس نے تمہارے لیے زمین کو پست ومطیع کردیا* تاکہ تم اس کی راہوں میں چلتے پھرتے رہو** اور اللہ کی روزیاں کھاؤ (پیو***) اسی کی طرف (تمہیں) جی کر اٹھ کھڑا ہونا ہے.
____________________
* ذلول کے معنی مطیع۔ یعنی زمین کو تمہارے لیے نرم اور آسان کر دیا اس کو اسی طرح سخت نہیں بنایا کہ تمہارا اس پر آباد ہونا اور چلنا پھرنا مشکل ہوجاتا۔
**- مناکب منکب کی جمع ہے ۔جانب یہاں اس سے مراد اس کے راستے اور اطراف و جوانب ہیں۔ امر اباحت کے لئے ہے، یعنی اس کے راستوں میں چلو۔
***- یعنی زمین کی پیداوار سے کھاؤ پیو۔
____________________
* ذلول کے معنی مطیع۔ یعنی زمین کو تمہارے لیے نرم اور آسان کر دیا اس کو اسی طرح سخت نہیں بنایا کہ تمہارا اس پر آباد ہونا اور چلنا پھرنا مشکل ہوجاتا۔
**- مناکب منکب کی جمع ہے ۔جانب یہاں اس سے مراد اس کے راستے اور اطراف و جوانب ہیں۔ امر اباحت کے لئے ہے، یعنی اس کے راستوں میں چلو۔
***- یعنی زمین کی پیداوار سے کھاؤ پیو۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
15. He is the one who made the earth soft and easy for you to live on, so travel around to its edges and eat from the provision He has prepared for you within it. To Him alone you will be resurrected for accountability and requital.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں