سورہ 5 · پارہ 6

سورة المائدة · 5:46

وَقَفَّيْنَا عَلَىٰ آثَارِهِمْ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ ۖ وَآتَيْنَاهُ الْإِنْجِيلَ فِيهِ هُدًى وَنُورٌ وَمُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِينَ

اور ہم نے ان کے پیچھے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی کتاب یعنی تورات کی تصدیق کرنے والے تھے* اور ہم نے انہیں انجیل عطا فرمائی جس میں نور اور ہدایت تھی اور وه اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرتی تھی اور وه سراسر ہدایت ونصیحت تھی پارسا لوگوں کے لئے۔**
____________________
* یعنی انبیائے سابقین کے فوراً بعد، متصل ہی حضرت عیسی (عليه السلام) کو بھیجا جو اپنے سے پہلے نازل شدہ کتاب تورات کی تصدیق کرنے والے تھے، اس کی تکذیب کرنے والے نہیں، جو اس بات کی دلیل تھی کہ حضرت عیسیٰ (عليه السلام) بھی اللہ کے سچے رسول ہیں اور اسی اللہ کے فرستادہ ہیں جس نے تورات حضرت موسیٰ (عليه السلام) پر نازل فرمائی تھی، تو اس کے باوجود بھی یہودیوں نے حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کی تکذیب کی بلکہ ان کی تکفیر اور تنقیص واہانت کی۔
**- یعنی جس طرح تورات اپنے وقت میں لوگوں کے لئے ہدایت کا ذریعہ تھی۔ اسی طرح انجیل کے نزول کے بعد اب یہی حیثیت انجیل کو حاصل ہوگئی اور پھر قرآن کریم کے نزول کے بعد تورات وانجیل اور دیگر صحائف آسمانی پر عمل منسوخ ہوگیا اور ہدایت ونجات کا واحد ذریعہ قرآن کریم رہ گیا اور اسی پر اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابوں کا سلسلہ ختم فرما دیا۔ یہ گویا اسی بات کا اعلان ہے کہ قیامت تک پیدا ہونے والے انسانوں کی فلاح وکامیابی اسی قرآن سے وابستہ ہے۔ جو اس سے جڑ گیا، سرخرو رہے گا۔ جو کٹ گیا ناکامی ونامرادی اس کا مقدر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ (وحدت ادیان) کا فلسفہ یکسر غلط ہے، حق ہر دور میں ایک ہی رہا ہے، متعدد نہیں۔ حق کے سوا دوسری چیزیں باطل ہیں۔ تورات اپنے دور کا حق تھی، اس کے بعد انجیل اپنے دور کا حق تھی انجیل کے نزول کے بعد تورات پر عمل کرنا جائز نہیں تھا۔ اور جب قرآن نازل ہوگیا تو انجیل منسوخ ہوگئی، انجیل پر عمل کرنا جائز نہیں رہا اور صرف قرآن ہی واحد نظام عمل اور نجات کے لئے قابل عمل رہ گیا۔ اس پر ایمان لائے بغیر یعنی نبوت محمدی (علی صاحبہا الصلاۃ والسلام) کو تسلیم کئے بغیر نجات ممکن نہیں۔ مزید ملاحظہ ہو، سورۂ بقرہ آیت 62 کا حاشیہ۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

46. After the prophets of the Israelites, I sent Jesus, son of Mary, as a believer in the Torah, giving judgement in accordance with it. I also gave him the Gospel that contained guidance to the truth and evidences to remove doubts and solve difficult cases of rulings: it corresponded to the Torah that came before it, except in a few rulings that it replaced. I made the Gospel a guide and a means to restrain people from doing that which was prohibited.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں