سورہ 5 · پارہ 6

سورة المائدة · 5:45

وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنْفَ بِالْأَنْفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ ۚ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ ۚ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ

اور ہم نے یہودیوں کے ذمہ تورات میں یہ بات مقرر کر دی تھی کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے*، پھر جو شخص اس کو معاف کردے تو وه اس کے لئے کفاره ہے، اور جو لوگ اللہ کے نازل کئے ہوئے کے مطابق حکم نہ کریں، وہی لوگ ﻇالم ہیں۔**
____________________
* جب تورات میں جان کے بدلے جان اور زخموں میں قصاص کا حکم دیا گیا تھا تو پھر یہودیوں کے ایک قبیلے (بنونضیر) کا دوسرے قبیلے (بنوقریظہ) کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ کرنا اور اپنے مقتول کی دیت دوسرے قبیلے کے مقتول کی بہ نسبت دوگنا رکھنے کا کیا جواز ہے؟ جیسا کہ اس کی تفصیل پچھلے صفحات میں گزری۔
**- یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ جس قبیلے نے مذکورہ فیصلہ کیا تھا، یہ اللہ کے نازل کردہ حکم کے خلاف تھا اور اس طرح انہوں نے ظلم کا ارتکاب کیا۔ گویا انسان اس بات کا مکلف ہے کہ وہ احکامات الٰہی کو اپنائے، اسی کے مطابق فیصلے کرے اور زندگی کے تمام معاملات میں اس سے رہنمائی حاصل کرے، اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو بارگاہ الٰہی میں ظالم متصور ہوگا، فاسق متصور ہوگا اور کافر متصورہوگا۔ ایسے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے تینوں لفظ استعمال کرکے اپنے غضب اور ناراضگی کا بھرپور اظہار فرما دیا۔ اس کے بعد بھی انسان اپنے ہی خود ساختہ قوانین یا اپنی خواہشات ہی کو اہمیت دے تو اس سے زیادہ بدقسمتی کیا ہوگی؟
ملحوظة: علمائے اصولیین نے لکھا ہے کہ پچھلی شریعت کا حکم، اگر اللہ نے برقرار رکھا ہے تو ہمارے لئے بھی اس پر عمل کرنا ضروری ہے اور اس آیت میں بیان کردہ حکم غیر منسوخ ہے اس لئے یہ بھی شریعت اسلامیہ ہی کے احکام ہیں جیسا کہ احادیث سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ اسی طرح احادیث سے «النَّفْسَ بِالنَّفْسِ» ( جان، بدلے جان کے) کے عموم سے دو صورتیں خارج ہوں گی۔ کہ کوئی مسلمان اگر کسی کافر کو قتل کر دے تو قصاص میں اس کافر کے بدلے مسلمان کو، اسی طرح غلام کے بدلے آزاد کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو، فتح الباری ونیل الاوطار وغیرہ)

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

45. I ordered the Jews in the Torah that if any person deliberately and wrongfully kills another he will be killed in retribution. If any person deliberately removes the eye of another person, his eye will be removed. If any person cuts the nose of another person, his nose will be cut. If any person cuts the ear of another person, his ear will be cut. If any person removes the tooth of another person, his tooth will be removed. I also ordered them with respect to wounds that the offender will be penalised with retribution for his offence. Whoever voluntarily pardons the offender, then such pardon shall be a compensation for their sins, as they have pardoned one who has wronged them. Whoever does not judge according to what Allah has revealed with respect to the law of retribution and other laws, then such person has overstepped Allah’s limits.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں

سورة المائدة 5:45 · Tlawati