التفسير الميسر

سورة محمد · 47:21

طَاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ ۚ فَإِذَا عَزَمَ الْأَمْرُ فَلَوْ صَدَقُوا اللَّهَ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ

فرمان کا بجا ﻻنا اور اچھی بات کا کہنا*۔ پھر جب کام مقرر ہو جائے**، تو اللہ کے ساتھ سچے رہیں*** تو ان کے لئے بہتری ہے.****
____________________
* یعنی حکم جہاد سے گھبرانے کے بجائے ان کے لئے بہتر تھا کہ وہ سمع وطاعت کا مظاہرہ کرتے اور نبی (صلى الله عليه وسلم)کی بابت، گستاخی کے بجائے، اچھی بات کہتے۔ یہ أَوْلَى بمعنی أَجْدَرُ (بہتر) ہے، جسے ابن کثیرنے اختیار کیا ہے۔ بعض نے اولیٰ کو تہدید ووعید کا کلمہ یعنی بددعا قرار دیا ہے۔ مَعْنَاهُ قَارَبَهُ مَا يُهْلِكُهُ (ان کی ہلاکت قریب ہے) مطلب ہے، ان کی بزدلی اور نفاق ان کی ہلاکت کا سبب بنے گا۔ اس اعتبار سے طَاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ جملہ مستانفہ ہوگا اور اس کی خبر محذوف ہوگی خَيْرٌ لَّكُمْ (فتح القدیر، ایسر التفاسیر)۔
**- یعنی جہاد کی تیاری مکمل ہو جائے اور وقت جہاد آجائے۔
***- یعنی اگر اب بھی نفاق چھوڑ کر، اپنی نیت اللہ کے لئے خالص کر لیں، یا رسول کے سامنے رسول (صلى الله عليه وسلم)کے ساتھ لڑنے کا جو عہد کرتے ہیں، اس میں اللہ سے سچے رہیں۔
****- یعنی نفاق اور مخالفت کے مقابلے میں توبہ واخلاص کا مظاہرہ بہتر ہے۔

یہ تفسیر عربی میں ہے۔ آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ المختصر انگریزی میں پڑھیں: المختصر (إنجليزي)

ويقول الذين آمنوا بالله ورسوله: هلا نُزِّلت سورة من الله تأمرنا بجهاد الكفار، فإذا أُنزِلت سورة محكمة بالبيان والفرائض وذُكر فيها الجهاد، رأيت الذين في قلوبهم شك في دين الله ونفاق ينظرون إليك -أيها النبي- نظر الذي قد غُشِيَ عليه خوفَ الموت، فأولى لهؤلاء الذين في قلوبهم مرض أن يطيعوا الله، وأن يقولوا قولا موافقًا للشرع. فإذا وجب القتال وجاء أمر الله بِفَرْضه كره هؤلاء المنافقون ذلك، فلو صدقوا الله في الإيمان والعمل لكان خيرًا لهم من المعصية والمخالفة.

47:21 · التفسير الميسر

التفسير الميسر - سورة محمد 47:21 · Tlawati