تفسير السعدي
سورة محمد · 47:2
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ ۙ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ
اور جو لوگ ایمان ﻻئے اور اچھے کام کیے اور اس پر بھی ایمان ﻻئے جو محمد ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ پر اتاری گئی* ہے اور دراصل ان کے رب کی طرف سے سچا (دین) بھی وہی ہے، اللہ نے ان کے گناه دور کر دیئے** اور ان کے حال کی اصلاح کر دی.***
____________________
* ایمان میں اگرچہ وحی محمدی یعنی قرآن پاک پر ایمان لانا بھی شامل ہے لیکن اس کی اہمیت اور شرف کو مزید واضح اور نمایاں کرنے کے لئے اس کا علیحدہ بھی ذکر فرما دیا۔
**- یعنی ایمان لانے سے قبل کی غلطیاں اور کوتاہیاں معاف فرما دیں۔ جیسا کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کا بھی فرمان ہے کہ (اسلام ماقبل کے سارے گناہوں کو مٹا دیتا ہے)۔ (صحيح الجامع الصغير لألباني)۔
***- بَالَهُمْ : کے معنی أَمْرَهُمْ، شَاْنَهُمْ، حالھم، یہ سب متقارب المعنی ہیں۔ مطلب ہے کہ انہیں معاصی سے بچا کر رشد وخیر کی راہ پر لگا دیا، ایک مومن کے لئے اصلاح حال کی یہی سب سے بہتر صورت ہے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ مال ودولت کے ذریعے سے ان کی حالت درست کر دی۔ کیونکہ ہر مومن کو مال ملتا بھی نہیں، علاوہ ازیں محض دنیوی مال اصلاح واحوال کا یقینی ذریعہ بھی نہیں، بلکہ اس سے فساد احوال کا زیادہ امکان ہے۔ اسی لئے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے کثرت مال کو پسند نہیں فرمایا۔
____________________
* ایمان میں اگرچہ وحی محمدی یعنی قرآن پاک پر ایمان لانا بھی شامل ہے لیکن اس کی اہمیت اور شرف کو مزید واضح اور نمایاں کرنے کے لئے اس کا علیحدہ بھی ذکر فرما دیا۔
**- یعنی ایمان لانے سے قبل کی غلطیاں اور کوتاہیاں معاف فرما دیں۔ جیسا کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کا بھی فرمان ہے کہ (اسلام ماقبل کے سارے گناہوں کو مٹا دیتا ہے)۔ (صحيح الجامع الصغير لألباني)۔
***- بَالَهُمْ : کے معنی أَمْرَهُمْ، شَاْنَهُمْ، حالھم، یہ سب متقارب المعنی ہیں۔ مطلب ہے کہ انہیں معاصی سے بچا کر رشد وخیر کی راہ پر لگا دیا، ایک مومن کے لئے اصلاح حال کی یہی سب سے بہتر صورت ہے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ مال ودولت کے ذریعے سے ان کی حالت درست کر دی۔ کیونکہ ہر مومن کو مال ملتا بھی نہیں، علاوہ ازیں محض دنیوی مال اصلاح واحوال کا یقینی ذریعہ بھی نہیں، بلکہ اس سے فساد احوال کا زیادہ امکان ہے۔ اسی لئے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے کثرت مال کو پسند نہیں فرمایا۔
یہ تفسیر عربی میں ہے۔ آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ المختصر انگریزی میں پڑھیں: المختصر (إنجليزي)
{١-٣} ﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ * وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ * ذَلِكَ بِأَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَأَنَّ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَبِّهِمْ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ لِلنَّاسِ أَمْثَالَهُمْ﴾.
هذه الآيات مشتملات على ذكر ثواب المؤمنين وعقاب العاصين، والسبب في ذلك، ودعوة الخلق إلى الاعتبار بذلك، فقال: ﴿الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ﴾ وهؤلاء رؤساء الكفر، وأئمة الضلال، الذين جمعوا بين الكفر بالله وآياته، والصد لأنفسهم وغيرهم عن سبيل الله، التي هي الإيمان بما دعت إليه الرسل واتباعه.
فهؤلاء ﴿أَضَلَّ﴾ الله ﴿أَعْمَالَهُمْ﴾ أي: أبطلها وأشقاهم بسببها، وهذا يشمل أعمالهم التي عملوها ليكيدوا بها الحق وأولياء الله، أن الله جعل كيدهم في نحورهم، فلم يدركوا مما قصدوا شيئا، وأعمالهم التي يرجون أن يثابوا عليها، أن الله سيحبطها عليهم، والسبب في ذلك أنهم اتبعوا الباطل، وهو كل غاية لا يراد بها وجه الله من عبادة الأصنام والأوثان، والأعمال التي في نصر الباطل لما كانت باطلة، كانت الأعمال لأجلها باطلة.
وأما ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا﴾ بما أنزل الله على رسله عموما، وعلى محمد ﷺ خصوصا، ﴿وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ بأن قاموا بما عليهم من حقوق الله، وحقوق العباد الواجبة والمستحبة.
﴿كَفَّرَ﴾ الله ﴿عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ﴾ صغارها وكبارها، وإذا كفرت سيئاتهم، نجوا من عذاب الدنيا والآخرة. ﴿وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ﴾ أي: أصلح دينهم ودنياهم، وقلوبهم وأعمالهم، وأصلح ثوابهم، بتنميته وتزكيته، وأصلح جميع أحوالهم، والسبب في ذلك أنهم: ﴿اتبعوا الْحَقُّ﴾ الذي هو الصدق واليقين، وما اشتمل عليه هذا القرآن العظيم، الصادر ﴿مِنْ رَبِّهِمْ﴾ الذي رباهم بنعمته، ودبرهم بلطفه فرباهم تعالى بالحق فاتبعوه، فصلحت أمورهم، فلما كانت الغاية المقصودة لهم، متعلقة بالحق المنسوب إلى الله الباقي الحق المبين، كانت الوسيلة صالحة باقية، باقيا ثوابها.
هذه الآيات مشتملات على ذكر ثواب المؤمنين وعقاب العاصين، والسبب في ذلك، ودعوة الخلق إلى الاعتبار بذلك، فقال: ﴿الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ﴾ وهؤلاء رؤساء الكفر، وأئمة الضلال، الذين جمعوا بين الكفر بالله وآياته، والصد لأنفسهم وغيرهم عن سبيل الله، التي هي الإيمان بما دعت إليه الرسل واتباعه.
فهؤلاء ﴿أَضَلَّ﴾ الله ﴿أَعْمَالَهُمْ﴾ أي: أبطلها وأشقاهم بسببها، وهذا يشمل أعمالهم التي عملوها ليكيدوا بها الحق وأولياء الله، أن الله جعل كيدهم في نحورهم، فلم يدركوا مما قصدوا شيئا، وأعمالهم التي يرجون أن يثابوا عليها، أن الله سيحبطها عليهم، والسبب في ذلك أنهم اتبعوا الباطل، وهو كل غاية لا يراد بها وجه الله من عبادة الأصنام والأوثان، والأعمال التي في نصر الباطل لما كانت باطلة، كانت الأعمال لأجلها باطلة.
وأما ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا﴾ بما أنزل الله على رسله عموما، وعلى محمد ﷺ خصوصا، ﴿وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ بأن قاموا بما عليهم من حقوق الله، وحقوق العباد الواجبة والمستحبة.
﴿كَفَّرَ﴾ الله ﴿عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ﴾ صغارها وكبارها، وإذا كفرت سيئاتهم، نجوا من عذاب الدنيا والآخرة. ﴿وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ﴾ أي: أصلح دينهم ودنياهم، وقلوبهم وأعمالهم، وأصلح ثوابهم، بتنميته وتزكيته، وأصلح جميع أحوالهم، والسبب في ذلك أنهم: ﴿اتبعوا الْحَقُّ﴾ الذي هو الصدق واليقين، وما اشتمل عليه هذا القرآن العظيم، الصادر ﴿مِنْ رَبِّهِمْ﴾ الذي رباهم بنعمته، ودبرهم بلطفه فرباهم تعالى بالحق فاتبعوه، فصلحت أمورهم، فلما كانت الغاية المقصودة لهم، متعلقة بالحق المنسوب إلى الله الباقي الحق المبين، كانت الوسيلة صالحة باقية، باقيا ثوابها.