سورہ 41 · پارہ 25

سورة فصلت · 41:47

۞ إِلَيْهِ يُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَمَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرَاتٍ مِنْ أَكْمَامِهَا وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنْثَىٰ وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِ ۚ وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ أَيْنَ شُرَكَائِي قَالُوا آذَنَّاكَ مَا مِنَّا مِنْ شَهِيدٍ

قیامت کا علم اللہ ہی کی طرف لوٹایا جاتا ہے* اور جو جو پھل اپنے شگوفوں میں سے نکلتے ہیں اور جو ماده حمل سے ہوتی ہے اور جو بچے وه جنتی ہے سب کا علم اسے ہے** اور جس دن اللہ تعالیٰ ان (مشرکوں) کو بلا کر دریافت فرمائے گا میرے شریک کہاں ہیں، وه جواب دیں گے کہ ہم نے تو تجھے کہہ سنایا کہ ہم میں سے تو کوئی اس کا گواه نہیں.***
____________________
* یعنی اللہ کے سوا اس کے وقوع کا کسی کو علم نہیں۔ اسی لیے جب حضرت جبرائیل (عليه السلام) نےنبی کریم (صلى الله عليه وسلم) سے قیامت کے واقع ہونے کے بارے میں پوچھا تھا تو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا تھا «مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ»، (اس کی بابت مجھے بھی اتنا ہی علم ہے جتنا تجھے ہے، میں تجھ سے زیادہ نہیں جانتا۔ دوسرے مقامات پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «إِلَى رَبِّكَ مُنْتَهَاهَا» (النازعات: 44) «لا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلا هُوَ» (الأعراف: 187)۔
**- یہ اللہ کے علم کامل و محیط کا بیان ہے اور اس کی اس صفت علم میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔ یعنی اس طرح کا علم کامل کسی کو حاصل نہیں۔ حتیٰ کہ انبیا علیہم السلام کو بھی نہیں۔ انہیں بھی اتنا ہی علم ہوتا ہے جتنا اللہ تعالیٰ انہیں وحی کے ذریعے سے بتلا دیتا ہے۔ اور اس علم و حی کا تعلق بھی منصب نبوت اور اس کے تقاضوں کی ادائیگی سے متعلق ہی ہوتا ہے نہ کہ دیگر فنون ومعاملات سے متعلق۔ اس لیےکسی بھی نبی اور رسول کو، چاہے وہ کتنی ہی عظمت شان کا حامل ہو، عَالِمُ مَا كَانَ وَمَا يَكُون ُ کہنا جائز نہیں۔ کیونکہ یہ صرف ایک اللہ کی شان اور اس کی صفت ہے۔ جس میں کسی اور کو شریک ماننا شرک ہوگا۔
***- یعنی آج ہم میں سے کوئی شخص یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ تیرا کوئی شریک ہے؟

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

47. To Allah alone the knowledge of the hour returns. He alone knows when it will occur. No one besides Him knows this. No fruit emerge from their protective sheath and no female conceives except by His knowledge. Nothing of that escapes Him. On the day when Allah will call the idolaters who used to worship idols together with Him, reproaching them for their worship of those idols: “Where are My partners that you used to worship besides Me and claim they are My partners?” The idolaters will say: We confess before you. There is not one of us who testifies now that you have a partner.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں