سورہ 40 · پارہ 24
سورة غافر · 40:43
لَا جَرَمَ أَنَّمَا تَدْعُونَنِي إِلَيْهِ لَيْسَ لَهُ دَعْوَةٌ فِي الدُّنْيَا وَلَا فِي الْآخِرَةِ وَأَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللَّهِ وَأَنَّ الْمُسْرِفِينَ هُمْ أَصْحَابُ النَّارِ
یہ یقینی امر ہے* کہ تم مجھے جس کی طرف بلا رہے ہو وه تو نہ دنیا میں پکارے جانے کے قابل ہے** نہ آخرت میں***، اور یہ (بھی یقینی بات ہے) کہ ہم سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے**** اور حد سے گزر جانے والے ہی (یقیناً) اہل دوزخ ہیں.*****
____________________
* لا جَرَمَ یہ بات یقینی ہے، یا اس میں جھوٹ نہیں ہے۔
**- یعنی وہ کسی کی پکار سننے کی استعداد ہی نہیں رکھتے کہ کسی کونفع پہنچا سکیں یا الوہیت کا استحقاق انہیں حاصل ہو۔ اس کا تقریباً وہی مفہوم ہے جو اس آیت اور اس جیسی دیگر متعدد آیات میں بیان کیا گیا ہے، وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنْ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ مَنْ لا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ (الأحقاف: 5) إِنْ تَدْعُوهُمْ لا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ (فاطر: 14) اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار سنتے ہی نہیں اور اگر بالفرض سن بھی لیں تو قبول نہیں کر سکتے۔
***- یعنی آخرت میں ہی وہ پکار سن کر کسی کو عذاب سے چھڑانے پر یا شفاعت ہی کرنے پر قادر ہوں؟ یہ بھی ممکن نہیں ہے۔ ایسی چیزیں بھلا اس لائق ہو سکتی ہیں کہ وہ معبود بنیں اور ان کی عبادت کی جائے؟
****- جہاں ہر ایک کا حساب ہوگا اور عمل کے مطابق اچھی یا بری جزا دی جائےگی۔
*****- یعنی کافر و مشرک، جو اللہ کی نافرمانی میں ہرحد سے تجاوز کر جاتے ہیں، اس طرح جو بہت زیادہ گناہ گار مسلمان ہوں گے، جن کی نافرمانیاں اسراف کی حد تک پہنچی ہوئی ہوں گی، انہیں بھی کچھ عرصہ جہنم کی سزا بھگتنی ہوگی۔ تاہم بعدمیں شفاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم یا اللہ کی مشیت سے ان کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دیا جائےگا۔
____________________
* لا جَرَمَ یہ بات یقینی ہے، یا اس میں جھوٹ نہیں ہے۔
**- یعنی وہ کسی کی پکار سننے کی استعداد ہی نہیں رکھتے کہ کسی کونفع پہنچا سکیں یا الوہیت کا استحقاق انہیں حاصل ہو۔ اس کا تقریباً وہی مفہوم ہے جو اس آیت اور اس جیسی دیگر متعدد آیات میں بیان کیا گیا ہے، وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنْ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ مَنْ لا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ (الأحقاف: 5) إِنْ تَدْعُوهُمْ لا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ (فاطر: 14) اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار سنتے ہی نہیں اور اگر بالفرض سن بھی لیں تو قبول نہیں کر سکتے۔
***- یعنی آخرت میں ہی وہ پکار سن کر کسی کو عذاب سے چھڑانے پر یا شفاعت ہی کرنے پر قادر ہوں؟ یہ بھی ممکن نہیں ہے۔ ایسی چیزیں بھلا اس لائق ہو سکتی ہیں کہ وہ معبود بنیں اور ان کی عبادت کی جائے؟
****- جہاں ہر ایک کا حساب ہوگا اور عمل کے مطابق اچھی یا بری جزا دی جائےگی۔
*****- یعنی کافر و مشرک، جو اللہ کی نافرمانی میں ہرحد سے تجاوز کر جاتے ہیں، اس طرح جو بہت زیادہ گناہ گار مسلمان ہوں گے، جن کی نافرمانیاں اسراف کی حد تک پہنچی ہوئی ہوں گی، انہیں بھی کچھ عرصہ جہنم کی سزا بھگتنی ہوگی۔ تاہم بعدمیں شفاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم یا اللہ کی مشیت سے ان کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دیا جائےگا۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
43. Truly, what you call me to have faith in and obey is not fit to be called to in this world or the Hereafter nor does it respond to whoever calls upon it. The return of us all is to Allah alone and those who transgress in disbelief and sins are the people of the fire who will enter it forever on the day of judgment.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں