تفسير السعدي

سورة غافر · 40:21

۞ أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ كَانُوا مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ كَانُوا هُمْ أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَآثَارًا فِي الْأَرْضِ فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ وَمَا كَانَ لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَاقٍ

کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا نتیجہ کیسا کچھ ہوا؟ وه باعتبار قوت و طاقت کے اور باعتبار زمین میں اپنی یادگاروں کے ان سے بہت زیاده تھے، پس اللہ نے انہیں ان کے گناہوں پر پکڑ لیا اور کوئی نہ ہوا جو انہیں اللہ کے عذاب سے بچا لیتا.*
____________________
* گزشتہ آیات میں احوال آخرت کا بیان تھا، اب دنیا کے احوال سے انہیں ڈرایا جارہاہے کہ یہ لوگ ذرا زمین میں چل پھر کران قوموں کا انجام دیکھیں، جو ان سے پہلے اس جرم تکذیب میں ہلاک کی گئیں، جس کا ارتکاب یہ کر رہے ہیں درآں حالیکہ گزشتہ قومیں قوت وآثار میں ان سے کہیں بڑھ کر تھیں، لیکن جب ان پر اللہ کا عذاب آیا تو انہیں کوئی نہیں بچا سکا۔ اسی طرح تم پر بھی عذاب آسکتا ہے، اور اگر یہ آگیا تو پھر کوئی تمہارا پشت پناہ نہ ہوگا۔

یہ تفسیر عربی میں ہے۔ آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ المختصر انگریزی میں پڑھیں: المختصر (إنجليزي)

{٢١ - ٢٢} ﴿أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الأرْضِ فَيَنْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ كَانُوا مِنْ قَبْلِهِمْ كَانُوا هُمْ أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَآثَارًا فِي الأرْضِ فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ وَمَا كَانَ لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَاقٍ * ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانَتْ تَأْتِيهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَكَفَرُوا فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ إِنَّهُ قَوِيٌّ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾.
يقول تعالى: ﴿أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الأرْضِ﴾ أي: بقلوبهم وأبدانهم سير نظر واعتبار، وتفكر في الآثار، ﴿فَيَنْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ كَانُوا مِنْ قَبْلِهِمْ﴾ من المكذبين، فسيجدونها شر العواقب، عاقبة الهلاك والدمار والخزي والفضيحة، وقد كانوا أشد قوة من هؤلاء في الْعَدَد والْعُدَد وكبر الأجسام. ﴿و﴾ أشد ﴿آثارا في الأرض﴾ -[٧٣٦]- من البناء والغرس، وقوة الآثار تدل على قوة المؤثر فيها وعلى تمنعه بها. ﴿فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ﴾ بعقوبته بذنوبهم حين أصروا واستمروا عليها.
﴿إِنَّهُ قَوِيٌّ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾ فلم تغن قوتهم عند قوة الله شيئًا، بل من أعظم الأمم قوة، قوم عاد الذين قالوا: ﴿مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً﴾ أرسل الله إليهم ريحا أضعفت قواهم، ودمرتهم كل تدمير.
ثم ذكر نموذجا من أحوال المكذبين بالرسل وهو فرعون وجنوده فقال:

40:21 · تفسير السعدي