سورہ 4 · پارہ 5

سورة النساء · 4:88

۞ فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا ۚ أَتُرِيدُونَ أَنْ تَهْدُوا مَنْ أَضَلَّ اللَّهُ ۖ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا

تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ کہ منافقوں کے بارے میں دو گروه ہو رہے ہو؟* انہیں تو ان کے اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اوندھا کر دیا ہے**۔ اب کیا تم یہ منصوبے باندھ رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے گمراه کئے ہوؤں کو تم راه راست پر ﻻکھڑا کرو، جسے اللہ تعالیٰ راه بھلا دے تو ہرگز اس کے لئے کوئی راه نہ پائے گا۔*
____________________
* یہ استفہام انکار کے لئے ہے، یعنی تمہارے درمیان ان منافقین کے بارے میں اختلاف نہیں ہونا چاہئے تھا۔ ان منافقین سے مراد وہ ہیں جو احد کی جنگ میں مدینہ سے کچھ دور جا کر واپس آگئے تھے، کہ ہماری بات نہیں مانی گئی۔ (صحیح بخاری سورۃ النساء، صحیح مسلم) کتاب المنافقین جیسا کہ تفصیل میں پہلے گزر چکی ہے۔ ان منافقین کے بارے میں اس وقت مسلمانوں کے دو گروہ بن گئے، ایک گروہ کا کہنا تھا کہ ہمیں ان منافقین سے (بھی) لڑنا چاہئے۔ دوسرا گروہ اسے مصلحت کے خلاف سمجھتا تھا۔
**- ”كَسَبُوا“ (اعمال) سے مراد، رسول کی مخالفت اور جہاد سے اعراض ہے ”أَرْكَسَهُمْ“ اوندھا کر دیا۔ یعنی جس کفر وضلالت سے نکلے تھے، اسی میں مبتلاکر دیا، یا اس کے سبب ہلاک کر دیا۔
***- جس کو اللہ گمراہ کر دے یعنی مسلسل کفر وعناد کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دے، انہیں کوئی راہ یاب نہیں کر سکتا۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

88. Why is it, O believers, that you have become two groups differing over how to deal with the hypocrites? One group wants to fight against them because of their disbelief and another group wants to leave them because of their faith. You should not disagree over them for Allah has returned them to disbelief and misguidance because of their actions. Do you wish to guide those whom Allah has not shown the truth? If Allah misguides anyone, you will never find a way to guide such a person.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں