سورہ 39 · پارہ 23

سورة الزمر · 39:9

أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ ۗ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ

بھلا جو شخص راتوں کے اوقات سجدے اور قیام کی حالت میں (عبادت میں) گزارتا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہو*، (اور جو اس کے برعکس ہو برابر ہو سکتے ہیں) بتاؤ تو علم والے اور بے علم کیا برابر کے ہیں**؟ یقیناً نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہوں۔ (اپنے رب کی طرف سے).***
____________________
* مطلب یہ ہے کہ ایک یہ کافر ومشرک ہے جس کا یہ حال ہے جو ابھی مذکور ہوا اور دوسرا وہ شخص ہے جو تنگی اور خوشی میں، رات کی گھڑیاں اللہ کے سامنے عاجزی اور فرماں برداری کا اظہار کرتے ہوئے، سجود وقیام میں گزارتا ہے۔ آخرت کا خوف بھی اس کے دل میں ہے اور رب کی رحمت کا امیدوار بھی ہے۔ یعنی خوف ورجا دونوں کیفیتوں سے وہ سرشار ہے، جو اصل ایمان ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ نہیں، یقیناً نہیں۔ خوف ورجا کے بارے میں حدیث ہے، حضرت انس (رضي الله عنه) بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس گئے جب کہ اس پر سکرات الموت کی کیفیت طاری تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تو اپنے آپ کو کیسے پاتا ہے؟ اس نے کہا میں اللہ سے امید رکھتا ہوں اور اپنے گناہوں کی وجہ سے ڈرتا بھی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس موقعے پر جس بندے کے دل میں یہ دونوں باتیں جمع ہو جائیں تواللہ تعالیٰ اسے وہ چیز عطا فرما دیتا ہے جس کی وہ امید رکھتا ہے اور اس سے اسے بچا لیتا ہے جس سے وہ ڈرتا ہے“۔ (ترمذي، ابن ماجه، كتاب الزهد، باب ذكر الموت والاستعداد له)۔
**- یعنی وہ جو جانتے ہیں کہ اللہ نے ثواب وعقاب کا جو وعدہ کیا ہے، وہ حق ہے اور وہ جو اس بات کو نہیں جانتے۔ یہ دونوں برابر نہیں۔ ایک عالم ہے اور ایک جاہل۔ جس طرح علم وجہل میں فرق ہے، اسی طرح عالم وجاہل برابر نہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عالم وغیر عالم کی مثال سے یہ سمجھانا مقصود ہو کہ جس طرح یہ دونوں برابر نہیں، اللہ کا فرماں بردار اور اس کا نافرمان، دونوں برابر نہیں۔ بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ عالم سے مراد وہ شخص ہےجو علم کے مطابق عمل بھی کرتا ہے۔ کیوں کہ وہی علم سے فائدہ حاصل کرنے والا ہے اور جو عمل نہیں کرتا وہ گویا ایسے ہی ہے کہ اسے علم ہی نہیں ہے۔ اس اعتبار سے یہ عامل اور غیر عامل کی مثال ہے کہ یہ دونوں برابر نہیں۔
***- اور یہ اہل ایمان ہی ہیں، نہ کہ کفار۔ گو وہ اپنے آپ کو صاحب دانش وبصیرت ہی سمجھتے ہوں۔ لیکن جب وہ اپنی عقل ودانش کو استعمال کرکے غور وتدبر ہی نہیں کرتے اور عبرت ونصیحت ہی حاصل نہیں کرتے تو ایسے ہی ہے گویا وہ چوپایوں کی طرح عقل ودانش سےمحروم ہیں۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

9. Is one who is obedient to Allah, spending the time at night in prostration to his Lord and standing for Him, fearing the punishment of the Afterlife and hoping in the mercy of his Lord better or that disbeliever who worships Allah in hardship but disbelieves in Him in ease and ascribes parters with Him? O Messenger, say: “Are those who know what Allah has made obligatory upon them due to their understanding of Allah and those who do not know any of this equal?” Only people of sound intelligence recognise the difference between the two.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں