سورہ 39 · پارہ 23
سورة الزمر · 39:8
۞ وَإِذَا مَسَّ الْإِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهُ مُنِيبًا إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا خَوَّلَهُ نِعْمَةً مِنْهُ نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُو إِلَيْهِ مِنْ قَبْلُ وَجَعَلَ لِلَّهِ أَنْدَادًا لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِهِ ۚ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِيلًا ۖ إِنَّكَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ
اور انسان کو جب کبھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وه خوب رجوع ہو کر اپنے رب کو پکارتا ہے، پھر جب اللہ تعالیٰ اسے اپنے پاس سے نعمت عطا فرمادیتا ہے تو وه اس سے پہلے جو دعا کرتا تھا اسے (بالکل) بھول جاتا ہے* اور اللہ تعالیٰ کے شریک مقرر کرنے لگتا ہے جس سے (اوروں کو بھی) اس کی راه سے بہکائے، آپ کہہ دیجئے! کہ اپنے کفر کا فائده کچھ دن اور اٹھالو، (آخر) تو دوزخیوں میں ہونے واﻻ ہے.
____________________
* یا اس تکلیف کو بھول جاتا ہے جس کو دور کرنے کے لئے وہ دوسروں کو چھوڑ کر، اللہ سےدعا کرتاتھا یا اس رب کو بھول جاتا ہے، جسے وہ پکارﺗا تھا اور اس کے سامنے تضرع کرتا تھا، اور پھر شرک میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
____________________
* یا اس تکلیف کو بھول جاتا ہے جس کو دور کرنے کے لئے وہ دوسروں کو چھوڑ کر، اللہ سےدعا کرتاتھا یا اس رب کو بھول جاتا ہے، جسے وہ پکارﺗا تھا اور اس کے سامنے تضرع کرتا تھا، اور پھر شرک میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
8. And when the disbeliever is afflicted by difficulty, such as illness, loss of wealth or fear of drowning, he calls upon his Lord to remove the difficulty which is upon him, turning to Him alone. Then when he grants him a favour by removing the difficulty which afflicted him, he leaves whom he used to beseech before, which is Allah, and he makes for Allah associates which he worships besides Him. O Messenger, say to one whose condition this is: “Enjoy your disbelief for as long as you live, which is a short time, as you are amongst the people of the fire who will be inseparable from it on the Day of Judgment, like a companion is inseparable from his companion”.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں