تفسير السعدي

سورة الزمر · 39:49

فَإِذَا مَسَّ الْإِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ثُمَّ إِذَا خَوَّلْنَاهُ نِعْمَةً مِنَّا قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ ۚ بَلْ هِيَ فِتْنَةٌ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے*، پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرمادیں تو کہنے لگتا ہے کہ اسے تو میں محض اپنے علم کی وجہ سے دیا گیا ہوں**، بلکہ یہ آزمائش ہے*** لیکن ان میں سے اکثر لوگ بے علم ہیں.****
____________________
* یہ انسان کا بہ اعتبار جنس، ذکر ہے۔ یعنی انسانوں کی اکثریت کا یہ حال ہے کہ جب ان کو بیماری، فقروفاقہ یا کوئی اور تکلیف پہنچتی ہے تواس سے نجات پانے کے لیے اللہ سے دعائیں کرتا اور اس کےسامنے گڑگڑاتا ہے۔
**- یعنی نعمت ملتے ہی سرکشی اور طغیان کا راستہ اختیار کرلیتا ہے اور کہتا ہے کہ اس میں اللہ کا کیا احسان؟ یہ تو میری اپنی دانائی کا نتیجہ ہے۔ یا جو علم وہنر میرے پاس ہے، اس کی بدولت یہ نعمتیں حاصل ہوئی ہیں یا مجھے معلوم تھا کہ دنیا میں یہ چیزیں مجھے ملیں گی کیونکہ اللہ کے ہاں میرا بہت مقام ہے۔
***- یعنی بات وہ نہیں ہے جو توسمجھ رہا یابیان کر رہا ہے، بلکہ یہ نعمتیں تیرے لیے امتحان اور آزمائش ہیں کہ تو شکر کرتا ہے یاکفر؟
****- اس بات سے کہ یہ اللہ کی طرف سے استدراج اور امتحان ہے۔

یہ تفسیر عربی میں ہے۔ آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ المختصر انگریزی میں پڑھیں: المختصر (إنجليزي)

{٤٩ - ٥٢} ﴿فَإِذَا مَسَّ الإنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ثُمَّ إِذَا خَوَّلْنَاهُ نِعْمَةً مِنَّا قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَى عِلْمٍ بَلْ هِيَ فِتْنَةٌ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لا يَعْلَمُونَ * قَدْ قَالَهَا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَمَا أَغْنَى عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ * فَأَصَابَهُمْ سَيِّئَاتُ مَا كَسَبُوا وَالَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْ هَؤُلاءِ سَيُصِيبُهُمْ سَيِّئَاتُ مَا كَسَبُوا وَمَا هُمْ بِمُعْجِزِينَ * أَوَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَاتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ﴾.
يخبر تعالى عن حالة الإنسان وطبيعته، أنه حين يمسه ضر، من مرض أو شدة أو كرب. ﴿دَعَانَا﴾ ملحا في تفريج ما نزل به ﴿ثُمَّ إِذَا خَوَّلْنَاهُ نِعْمَةً مِنَّا﴾ فكشفنا ضره وأزلنا مشقته، عاد بربه كافرا، ولمعروفه منكرا. و ﴿قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَى عِلْمٍ﴾ أي: علم من الله، أني له أهل، وأني مستحق له، لأني كريم عليه، أو على علم مني بطرق تحصيله.
قال تعالى: ﴿بَلْ هِيَ فِتْنَةٌ﴾ يبتلي الله به عباده، لينظر من يشكره ممن يكفره. ﴿وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لا يَعْلَمُونَ﴾ فلذلك يعدون الفتنة منحة، ويشتبه عليهم الخير المحض، بما قد يكون سببا للخير أو للشر.
قال تعالى: ﴿قَدْ قَالَهَا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ﴾ أي: قولهم ﴿إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَى عِلْمٍ﴾ فما زالت متوارثة عند المكذبين، لا يقرون بنعمة ربهم، ولا يرون له حقا، فلم يزل دأبهم حتى أهلكوا، ولم يغن ﴿عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾ حين جاءهم العذاب.
﴿فَأَصَابَهُمْ سَيِّئَاتُ مَا كَسَبُوا﴾ والسيئات في هذا الموضع: العقوبات، لأنها تسوء الإنسان وتحزنه. ﴿وَالَّذِينَ ظَلَمُوا من هؤلاء سَيُصِيبُهُمْ سَيِّئَاتُ مَا كَسَبُوا﴾ فليسوا خيرا من أولئك، ولم يكتب لهم براءة في الزبر.
ولما ذكر أنهم اغتروا بالمال، وزعموا - بجهلهم - أنه يدل على حسن حال صاحبه، أخبرهم تعالى، أن رزقه، لا يدل على ذلك، وأنه ﴿يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ﴾ من عباده، سواء كان صالحا أو طالحا ﴿وَيَقْدِرُ﴾ الرزق، أي: يضيقه على من يشاء، صالحا أو طالحا، فرزقه مشترك بين البرية، والإيمان والعمل الصالح يخص به خير البرية. ﴿إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَاتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ﴾ أي: بسط الرزق وقبضه، لعلمهم أن مرجع ذلك، عائد إلى الحكمة والرحمة، وأنه أعلم بحال عبيده، فقد يضيق عليهم الرزق لطفا بهم، لأنه لو بسطه لبغوا في الأرض، فيكون تعالى مراعيا في ذلك صلاح دينهم الذي هو مادة سعادتهم وفلاحهم، والله أعلم.

39:49 · تفسير السعدي