سورہ 35 · پارہ 22

سورة فاطر · 35:43

اسْتِكْبَارًا فِي الْأَرْضِ وَمَكْرَ السَّيِّئِ ۚ وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ ۚ فَهَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ الْأَوَّلِينَ ۚ فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبْدِيلًا ۖ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا

دنیا میں اپنے کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے*، اور ان کی بری تدبیروں کی وجہ سے** اور بری تدبیروں کا وبال ان تدبیر والوں ہی پر پڑتا ہے***، سو کیا یہ اسی دستور کے منتظر ہیں جو اگلے لوگوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے****۔ سو آپ اللہ کے دستور کو کبھی بدلتا ہوا نہ پائیں گے*****، اور آپ اللہ کے دستور کو کبھی منتقل ہوتا ہوا نہ پائیں گے.******
____________________
* یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی نبوت پر ایمان لانے کے بجائے انکار و مخالفت کا راستہ محض استکبار اور سرکشی کی وجہ سے اختیار کیا۔
**- اور بری تدبیر یعنی حیلہ، دھوکہ اور عمل قبیح کی وجہ سے کیا۔
***- یعنی لوگ مکر وحیلہ کرتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ بری تدبیر کا انجام برا ہی ہوتا ہے اور اس کا وبال بالآخر مکر وحیلہ کرنے والوں پر ہی پڑتا ہے۔
****- یعنی کیا یہ اپنے کفروشرک، رسول (صلى الله عليه وسلم) کی مخالفت اور مومنوں کو ایذائیں پہنچانے پر مصر رہ کر اس بات کے منتظر ہیں کہ انہیں بھی اس طرح ہلاک کیا جائے، جس طرح پچھلی قومیں ہلاکت سے دوچار ہوئیں؟
*****- بلکہ یہ اسی طرح جاری ہے اور ہر مکذب (جھٹلانے والے) کا مقدر ہلاکت ہے یا بدلنے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ کے عذاب کو رحمت سے بدلنے پر قادر نہیں ہے۔
******- یعنی کوئی اللہ کے عذاب کو دور کرنے والا یا اس کا رخ پھیرنے والا نہیں ہے یعنی جس قوم کو اللہ عذاب سے دوچار کرنا چاہے، کوئی اس کا رخ کسی اور قوم کی طرف پھیر دے، کسی میں یہ طاقت نہیں ہے۔ مطلب اس سنت اللہ کی وضاحت سے مشرکین عرب کو ڈرانا ہے کہ ابھی بھی وقت ہے، وہ کفروشرک چھوڑ کر ایمان لے آئیں، ورنہ وہ اس سنت الٰہی سے بچ نہیں سکتے، دیر سویر اس کی زد میں آکر رہیں گے، کوئی اس قانون الٰہی کو بدلنے پر قادر ہے اور نہ عذاب الٰہی کو پھیرنے پر۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

43. The oaths that they took in Allah’s name was not done in good faith and with a sound objective. It was only to be arrogant on earth and to deceive people. An evil plot only rebounds on those who plotted it. So are these arrogant plotters waiting for anything but Allah’s established practice, which is their destruction as He had destroyed those predecessors of theirs who were similar to them. You will not find any change to Allah’s practice in destroying those who are arrogant, such that the destruction does not come on them, nor any diversion such that it falls on others besides them, because it is an established divine practice.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں