سورہ 35 · پارہ 22

سورة فاطر · 35:42

وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِنْ جَاءَهُمْ نَذِيرٌ لَيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ ۖ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ مَا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا

اور ان کفار نے بڑی زوردار قسم کھائی تھی کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے واﻻ آئے تو وه ہر ایک امت سے زیاده ہدایت قبول کرنے والے ہوں*۔ پھر جب ان کے پاس ایک پیغمبر آ پہنچے** تو بس ان کی نفرت ہی میں اضافہ ہوا.
____________________
* اس میں اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا کہ بعثت محمدی سے قبل یہ مشرکین عرب قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر ہماری طرف کوئی رسول آیا، تو ہم اس کا خیرمقدم کریں گے اور اس پر ایمان لانے میں ایک مثالی کردار ادا کریں گے۔ (یہ مضمون دیگر مقامات پر بھی بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً سورۃ الانعام:156 - 157 الصافات: 167 - 170)
**- یعنی حضرت محمد (صلى الله عليه وسلم) ان کے پاس نبی بن کر آگئے جن کے لئےوہ تمنا کرتے تھے۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

42. These denying disbelievers swore a solemn and affirmed oath that if a messenger from Allah came to them to warn them of His punishment, they would be more guided and follow the truth more than the Jews, Christians and others. Yet when Muhammad (peace be upon him) came to them after being sent by His Lord, and he warned them of Allah’s punishment, his coming only increased them in aversion to the truth and adherence to falsehood. They did not fulfil the solemn oaths that they took that they will be more guided than those who preceded them.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں