تفسير السعدي
سورة سبأ · 34:39
قُلْ إِنَّ رَبِّي يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ لَهُ ۚ وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ ۖ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ
کہہ دیجیئے! کہ میرا رب اپنے بندوں میں جس کے لئے چاہے روزی کشاده کرتا ہے اور جس کے لئے چاہے تنگ کردیتا ہے*، تم جو کچھ بھی اللہ کی راه میں خرچ کرو گے اللہ اس کا (پورا پورا) بدلہ دے گا** اور وه سب سے بہتر روزی دینے واﻻ ہے.***
____________________
* پس وہ کبھی کافر کو بھی خوب مال دیتا ہے، لیکن کس لئے؟ استدراج کے طور پر، اور کبھی مومن کو تنگ دست رکھتا ہے، کس لئے؟ اس کے اجروثواب میں اضافے کے لئے۔ اس لئے مجردمال کی فراوانی اس کی رضا کی اور اس کی کمی، اس کی ناراضی کی دلیل نہیں ہے۔ یہ تکرار بطور تاکید کے ہے۔
**- إِخْلافٌ کے معنی ہیں، عوض اور بدلہ دینا۔ یہ بدلہ دنیا میں بھی ممکن ہے اور آخرت میں تو یقینی ہے۔ حدیث قدسی میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ «أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ» (صحيح بخاري سورة هود) ”تو خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا“ (یعنی بدلہ دوں گا) دو فرشتے ہر روز اعلان کرتے ہیں، ایک کہتا ہے «اللَّهُمَّ أَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا» ”اے اللہ! نہ خرچ کرنے والے کے مال کو ضائع کردے“ دوسرا کہتا ہے، «اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا» ”اے اللہ! خرچ کرنے والے کو بدلہ عطا فرما۔ (البخاري، كتاب الزكاة، باب، فأما من أعطى واتقى)۔
***- کیونکہ ایک بندہ اگر کسی کو کچھ دیتا ہے تو اس کا یہ دینا اللہ تعالیٰ کی توفیق وتیسیر اور اس کی تقدیر سے ہی ہے۔ حقیقت میں دینے والا اس کا رازق نہیں ہے، جس طرح بچوں کا باپ، بچوں کا، یا بادشاہ اپنے لشکر کا کفیل کہلاتا ہے حالانکہ امیر اور مامور بچے اور بڑے سب کا رازق حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی ہے جو سب کا خالق بھی ہے۔ اس لئے جو شخص اللہ کے دیئے ہوئے مال میں سے کسی کو کچھ دیتا ہے تو وہ ایسے مال میں تصرف کرتا ہے جو اللہ ہی نے اسے دیا ہے، پس درحقیقت رازق بھی اللہ ہی ہوا۔ تاہم یہ اس کا مزید فضل وکرم ہے کہ اس کے دیئے ہوئے مال میں اس کی مرضی کے مطابق تصرف (خرچ کرنے) پر وہ اجر وثواب بھی عطا فرماتا ہے۔
____________________
* پس وہ کبھی کافر کو بھی خوب مال دیتا ہے، لیکن کس لئے؟ استدراج کے طور پر، اور کبھی مومن کو تنگ دست رکھتا ہے، کس لئے؟ اس کے اجروثواب میں اضافے کے لئے۔ اس لئے مجردمال کی فراوانی اس کی رضا کی اور اس کی کمی، اس کی ناراضی کی دلیل نہیں ہے۔ یہ تکرار بطور تاکید کے ہے۔
**- إِخْلافٌ کے معنی ہیں، عوض اور بدلہ دینا۔ یہ بدلہ دنیا میں بھی ممکن ہے اور آخرت میں تو یقینی ہے۔ حدیث قدسی میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ «أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ» (صحيح بخاري سورة هود) ”تو خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا“ (یعنی بدلہ دوں گا) دو فرشتے ہر روز اعلان کرتے ہیں، ایک کہتا ہے «اللَّهُمَّ أَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا» ”اے اللہ! نہ خرچ کرنے والے کے مال کو ضائع کردے“ دوسرا کہتا ہے، «اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا» ”اے اللہ! خرچ کرنے والے کو بدلہ عطا فرما۔ (البخاري، كتاب الزكاة، باب، فأما من أعطى واتقى)۔
***- کیونکہ ایک بندہ اگر کسی کو کچھ دیتا ہے تو اس کا یہ دینا اللہ تعالیٰ کی توفیق وتیسیر اور اس کی تقدیر سے ہی ہے۔ حقیقت میں دینے والا اس کا رازق نہیں ہے، جس طرح بچوں کا باپ، بچوں کا، یا بادشاہ اپنے لشکر کا کفیل کہلاتا ہے حالانکہ امیر اور مامور بچے اور بڑے سب کا رازق حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی ہے جو سب کا خالق بھی ہے۔ اس لئے جو شخص اللہ کے دیئے ہوئے مال میں سے کسی کو کچھ دیتا ہے تو وہ ایسے مال میں تصرف کرتا ہے جو اللہ ہی نے اسے دیا ہے، پس درحقیقت رازق بھی اللہ ہی ہوا۔ تاہم یہ اس کا مزید فضل وکرم ہے کہ اس کے دیئے ہوئے مال میں اس کی مرضی کے مطابق تصرف (خرچ کرنے) پر وہ اجر وثواب بھی عطا فرماتا ہے۔
یہ تفسیر عربی میں ہے۔ آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ المختصر انگریزی میں پڑھیں: المختصر (إنجليزي)
{٣٤ - ٣٩} ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِنْ نَذِيرٍ إِلا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُمْ بِهِ كَافِرُونَ * وَقَالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ أَمْوَالا وَأَوْلادًا وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ * قُلْ إِنَّ رَبِّي يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَعْلَمُونَ * وَمَا أَمْوَالُكُمْ وَلا أَوْلادُكُمْ بِالَّتِي تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفَى إِلا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَئِكَ لَهُمْ جَزَاءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوا وَهُمْ فِي الْغُرُفَاتِ آمِنُونَ * وَالَّذِينَ يَسْعَوْنَ فِي آيَاتِنَا مُعَاجِزِينَ أُولَئِكَ فِي الْعَذَابِ مُحْضَرُونَ * قُلْ إِنَّ رَبِّي يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ لَهُ وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ﴾.
يخبر تعالى عن حالة الأمم الماضية المكذبة للرسل، أنها كحال هؤلاء الحاضرين المكذبين لرسولهم محمد صلى الله عليه وسلم، وأن الله إذا أرسل رسولا في قرية من القرى، كفر به مترفوها، وأبطرتهم نعمتهم وفخروا بها.
﴿وَقَالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ أَمْوَالا وَأَوْلادًا﴾ أي: ممن اتبع الحق ﴿وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ﴾ أي: أولا لسنا بمبعوثين، فإن بعثنا، فالذي أعطانا الأموال والأولاد في الدنيا، سيعطينا أكثر من ذلك في الآخرة ولا يعذبنا.
فأجابهم الله تعالى، بأن بسط الرزق وتضييقه، ليس دليلا على ما زعمتم، فإن الرزق تحت مشيئة الله، إن شاء بسطه لعبده، وإن شاء ضيقه.
وليست الأموال والأولاد بالتي تقرب إلى الله زلفى وتدني إليه، وإنما الذي يقرب منه زلفى، الإيمان بما جاء به المرسلون، والعمل الصالح الذي هو من لوازم الإيمان، فأولئك لهم الجزاء عند الله تعالى مضاعفا الحسنة بعشر أمثالها، إلى سبعمائة ضعف إلى أضعاف كثيرة، لا يعلمها إلا الله، ﴿وَهُمْ فِي الْغُرُفَاتِ آمِنُونَ﴾ أي: في المنازل العاليات المرتفعات جدا، ساكنين فيها مطمئنين، آمنون من المكدرات والمنغصات، لما هم فيه من اللذات، وأنواع المشتهيات، وآمنون من الخروج منها والحزن فيها.
وأما الذين سعوا في آياتنا على وجه التعجيز لنا ولرسلنا والتكذيب فـ ﴿أُولَئِكَ فِي الْعَذَابِ مُحْضَرُونَ﴾
ثم أعاد تعالى أنه ﴿يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ لَهُ﴾ ليرتب عليه قوله: ﴿وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ﴾ نفقة واجبة، أو مستحبة، على قريب، أو جار، أو مسكين، أو يتيم، أو غير ذلك، ﴿فَهُوَ﴾ تعالى ﴿يُخْلِفُهُ﴾ فلا تتوهموا أن الإنفاق مما ينقص الرزق، بل وعد بالخلف للمنفق، الذي يبسط الرزق لمن يشاء ويقدر ﴿وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ﴾ فاطلبوا الرزق منه، واسعوا في الأسباب التي أمركم بها.
يخبر تعالى عن حالة الأمم الماضية المكذبة للرسل، أنها كحال هؤلاء الحاضرين المكذبين لرسولهم محمد صلى الله عليه وسلم، وأن الله إذا أرسل رسولا في قرية من القرى، كفر به مترفوها، وأبطرتهم نعمتهم وفخروا بها.
﴿وَقَالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ أَمْوَالا وَأَوْلادًا﴾ أي: ممن اتبع الحق ﴿وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ﴾ أي: أولا لسنا بمبعوثين، فإن بعثنا، فالذي أعطانا الأموال والأولاد في الدنيا، سيعطينا أكثر من ذلك في الآخرة ولا يعذبنا.
فأجابهم الله تعالى، بأن بسط الرزق وتضييقه، ليس دليلا على ما زعمتم، فإن الرزق تحت مشيئة الله، إن شاء بسطه لعبده، وإن شاء ضيقه.
وليست الأموال والأولاد بالتي تقرب إلى الله زلفى وتدني إليه، وإنما الذي يقرب منه زلفى، الإيمان بما جاء به المرسلون، والعمل الصالح الذي هو من لوازم الإيمان، فأولئك لهم الجزاء عند الله تعالى مضاعفا الحسنة بعشر أمثالها، إلى سبعمائة ضعف إلى أضعاف كثيرة، لا يعلمها إلا الله، ﴿وَهُمْ فِي الْغُرُفَاتِ آمِنُونَ﴾ أي: في المنازل العاليات المرتفعات جدا، ساكنين فيها مطمئنين، آمنون من المكدرات والمنغصات، لما هم فيه من اللذات، وأنواع المشتهيات، وآمنون من الخروج منها والحزن فيها.
وأما الذين سعوا في آياتنا على وجه التعجيز لنا ولرسلنا والتكذيب فـ ﴿أُولَئِكَ فِي الْعَذَابِ مُحْضَرُونَ﴾
ثم أعاد تعالى أنه ﴿يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ لَهُ﴾ ليرتب عليه قوله: ﴿وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ﴾ نفقة واجبة، أو مستحبة، على قريب، أو جار، أو مسكين، أو يتيم، أو غير ذلك، ﴿فَهُوَ﴾ تعالى ﴿يُخْلِفُهُ﴾ فلا تتوهموا أن الإنفاق مما ينقص الرزق، بل وعد بالخلف للمنفق، الذي يبسط الرزق لمن يشاء ويقدر ﴿وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ﴾ فاطلبوا الرزق منه، واسعوا في الأسباب التي أمركم بها.