تفسير السعدي
سورة السجدة · 32:21
وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَىٰ دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
بالیقین ہم انہیں قریب کے چھوٹے سے بعض عذاب* اس بڑے عذاب کے سوا چکھائیں گے تاکہ وه لوٹ آئیں.**
____________________
* عذاب ادنیٰ (چھوٹے سے یا قریب کے بعض عذاب) سے دنیا کا عذاب یا دنیا کی مصیبتیں اور بیماریاں وغیرہ مراد ہیں۔ بعض کےنزدیک وہ قتل اس سے مراد ہے، جس سے جنگ بدر میں کافر دوچار ہوئے یا وہ قحط سالی ہے جو اہل مکہ پر مسلط کی گئی تھی۔ امام شوکانی فرماتے ہیں، تمام صورتیں ہی اس میں شامل ہو سکتی ہیں۔
**- یہ آخرت کے بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے عذاب بھیجنے کی علت ہے کہ شاید وہ کفر وشرک اور معصیت سے باز آجائیں۔
____________________
* عذاب ادنیٰ (چھوٹے سے یا قریب کے بعض عذاب) سے دنیا کا عذاب یا دنیا کی مصیبتیں اور بیماریاں وغیرہ مراد ہیں۔ بعض کےنزدیک وہ قتل اس سے مراد ہے، جس سے جنگ بدر میں کافر دوچار ہوئے یا وہ قحط سالی ہے جو اہل مکہ پر مسلط کی گئی تھی۔ امام شوکانی فرماتے ہیں، تمام صورتیں ہی اس میں شامل ہو سکتی ہیں۔
**- یہ آخرت کے بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے عذاب بھیجنے کی علت ہے کہ شاید وہ کفر وشرک اور معصیت سے باز آجائیں۔
یہ تفسیر عربی میں ہے۔ آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ المختصر انگریزی میں پڑھیں: المختصر (إنجليزي)
{٢١} ﴿وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الأدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الأكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾.
أي: ولنذيقن الفاسقين المكذبين، نموذجًا من العذاب الأدنى، وهو عذاب البرزخ، فنذيقهم طرفًا منه، قبل أن يموتوا، إما بعذاب بالقتل ونحوه، كما جرى لأهل بدر من المشركين، وإما عند الموت، كما في قوله تعالى ﴿وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ﴾ ثم يكمل لهم العذاب الأدنى في برزخهم.
وهذه الآية من الأدلة على إثبات عذاب القبر، ودلالتها ظاهرة، فإنه قال: ﴿وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الأدْنَى﴾ أي: بعض وجزء منه، فدل على أن ثَمَّ عذابًا أدنى قبل العذاب الأكبر، وهو عذاب النار.
ولما كانت الإذاقة من العذاب الأدنى في الدنيا، قد لا يتصل بها الموت، فأخبر تعالى أنه يذيقهم ذلك لعلهم يرجعون إليه ويتوبون من ذنوبهم كما قال تعالى: ﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾
أي: ولنذيقن الفاسقين المكذبين، نموذجًا من العذاب الأدنى، وهو عذاب البرزخ، فنذيقهم طرفًا منه، قبل أن يموتوا، إما بعذاب بالقتل ونحوه، كما جرى لأهل بدر من المشركين، وإما عند الموت، كما في قوله تعالى ﴿وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ﴾ ثم يكمل لهم العذاب الأدنى في برزخهم.
وهذه الآية من الأدلة على إثبات عذاب القبر، ودلالتها ظاهرة، فإنه قال: ﴿وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الأدْنَى﴾ أي: بعض وجزء منه، فدل على أن ثَمَّ عذابًا أدنى قبل العذاب الأكبر، وهو عذاب النار.
ولما كانت الإذاقة من العذاب الأدنى في الدنيا، قد لا يتصل بها الموت، فأخبر تعالى أنه يذيقهم ذلك لعلهم يرجعون إليه ويتوبون من ذنوبهم كما قال تعالى: ﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾