تفسير السعدي

سورة الروم · 30:13

وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ مِنْ شُرَكَائِهِمْ شُفَعَاءُ وَكَانُوا بِشُرَكَائِهِمْ كَافِرِينَ

اور ان کے تمام تر شریکوں میں سے ایک بھی ان کا سفارشی نہ ہوگا* اور (خود یہ بھی) اپنے شریکوں کے منکر ہو جائیں گے.**
____________________
* شریکوں سے مراد وہ معبودان باطلہ ہیں جن کی مشرکین، یہ سمجھ کر عبادت کرتے تھے کہ یہ اللہ کے ہاں ان کے سفارشی ہوں گے، اور انہیں اللہ کے عذاب سے بچالیں گے۔ لیکن اللہ نے یہاں وضاحت فرما دی کہ اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرنے والوں کے لئے اللہ کے ہاں کوئی سفارشی نہیں ہوگا۔
**- یعنی وہاں ان کی الوہیت کے منکر ہو جائیں گے کیونکہ وہ دیکھ لیں گے کہ یہ کسی کو کوئی فائدہ پہنچانے پر قادر نہیں ہیں۔ (فتح القدیر) دوسرے معنی ہیں کہ یہ معبود اس بات سے انکار کر دیں گے کہ یہ لوگ انہیں اللہ کا شریک گردان کر ان کی عبادت کرتے تھے، کیونکہ وہ تو ان کی عبادت سے ہی بے خبر ہیں۔

یہ تفسیر عربی میں ہے۔ آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ المختصر انگریزی میں پڑھیں: المختصر (إنجليزي)

{١١ - ١٦} ﴿اللَّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ * وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُبْلِسُ الْمُجْرِمُونَ * وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ مِنْ شُرَكَائِهِمْ شُفَعَاءُ وَكَانُوا بِشُرَكَائِهِمْ كَافِرِينَ * وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ * فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَهُمْ فِي رَوْضَةٍ يُحْبَرُونَ﴾.
يخبر تعالى أنه المتفرد بإبداء المخلوقات ثم يعيدهم ثم إليه يرجعون بعد إعادتهم ليجازيهم بأعمالهم، ولهذا ذكر جزاء أهل الشر ثم جزاء أهل الخير فقال:
﴿وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ﴾ أي: يقوم الناس لرب العالمين ويردون القيامة عيانا، يومئذ ﴿يُبْلِسُ الْمُجْرِمُونَ﴾ أي: ييأسون من كل خير. وذلك أنهم ما قدموا لذلك اليوم إلا الإجرام وهي الذنوب، من كفر وشرك ومعاصي، فلما قدموا أسباب العقاب ولم يخلطوها بشيء من أسباب الثواب، أيسوا وأبلسوا وأفلسوا وضل عنهم ما كانوا يفترونه، من نفع شركائهم وأنهم يشفعون لهم، ولهذا قال: ﴿وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ مِنْ شُرَكَائِهِمْ﴾ التي عبدوها مع الله ﴿شُفَعَاءُ وَكَانُوا بِشُرَكَائِهِمْ كَافِرِينَ﴾ تبرأ المشركون ممن أشركوهم مع الله وتبرأ المعبودون وقالوا: ﴿تَبَرَّأْنَا إِلَيْكَ مَا كَانُوا إِيَّانَا يَعْبُدُونَ﴾ والتعنوا وابتعدوا، وفي ذلك اليوم يفترق أهل الخير والشر كما افترقت أعمالهم في الدنيا.
﴿فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ آمنوا بقلوبهم وصدقوا ذلك بالأعمال الصالحة ﴿فَهُمْ فِي رَوْضَةٍ﴾ فيها سائر أنواع النبات وأصناف المشتهيات، ﴿يُحْبَرُونَ﴾ أي: يسرون وينعمون بالمآكل اللذيذة والأشربة والحور الحسان والخدم والولدان والأصوات المطربات والسماع المشجي والمناظر العجيبة والروائح الطيبة والفرح والسرور واللذة والحبور مما لا يقدر أحد أن يصفه.

30:13 · تفسير السعدي