سورہ 3 · پارہ 4

سورة آل عمران · 3:168

الَّذِينَ قَالُوا لِإِخْوَانِهِمْ وَقَعَدُوا لَوْ أَطَاعُونَا مَا قُتِلُوا ۗ قُلْ فَادْرَءُوا عَنْ أَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ

یہ وه لوگ ہیں جو خود بھی بیٹھے رہے اور اپنے بھائیوں کی بابت کہا کہ اگر وه بھی ہماری بات مان لیتے تو قتل نہ کئے جاتے۔ کہہ دیجئے! کہ اگر تم سچے ہو تو اپنی جانوں سے موت کو ہٹا دو.*
____________________
* یہ منافقین کے اس قول کا رد ہے کہ اگر وہ ہماری بات مان لیتے تو قتل نہ کئے جاتے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو اپنے سے موت ٹال کر دکھاؤ مطلب یہ ہے کہ تقدیر سے کسی کو مفر نہیں۔ موت بھی جہاں اور جیسے مقدر ہے، وہاں اور اسی صورت میں آکر رہے گی۔ اس لئے جہاد اور اللہ کی راہ میں لڑنے سے گریز وفرار یہ کسی کو موت کے شکنجے سے نہیں بچا سکتا۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

168. Those who stayed behind from fighting, and said of their relatives who suffered on the day of Uḥud that if they had done as they said and not gone to fight then they would not have been killed, tell them, O Prophet, in reply, to keep death away from themselves when it arrives, if they are telling the truth in their claim that they would not have been killed if they had listened to them; and that the reason they themselves escaped death was because they stayed behind from fighting in Allah’s cause.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں