سورہ 3 · پارہ 4
سورة آل عمران · 3:167
وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُوا ۚ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوِ ادْفَعُوا ۖ قَالُوا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَاتَّبَعْنَاكُمْ ۗ هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْإِيمَانِ ۚ يَقُولُونَ بِأَفْوَاهِهِمْ مَا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ ۗ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ
اور منافقوں کو بھی معلوم کر لے* جن سے کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راه میں جہاد کرو، یا کافروں کو ہٹاو، ٴ تو وه کہنے لگے کہ اگر ہم لڑائی جانتے ہوتے تو ضرور ساتھ دیتے**، وه اس دن بہ نسبت ایمان کے کفر سے بہت قریب تھے***، اپنے منھ سے وه باتیں بناتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں****، اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جسے وه چھپاتے ہیں.
____________________
* یعنی احد میں تمہیں جو کچھ نقصان پہنچا، وہ اللہ کے حکم سے ہی پہنچا ہے (تاکہ آئندہ تم اطاعت رسول کا کما حقہ اہتمام کرو) علاوہ ازیں اس کا ایک مقصد مومنین اور منافقین کو ایک دوسرے سے الگ اور ممتاز کرنا بھی تھا۔
**- لڑائی جاننے کا مطلب یہ ہے کہ اگر واقعی آپ لوگ لڑائی لڑنے چل رہے ہوتے تو ہم بھی ساتھ دیتے۔ مگر آپ تو لڑائی کے بجائے اپنے آپ کو تباہی کے دہانے میں جھونکتے جا رہے ہیں۔ ایسے غلط کام میں ہم کیوں آپ کا ساتھ دیں۔ یہ عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں نے اس لئے کہا کہ ان کی بات نہیں مانی گئی تھی اور اس وقت کہا جب وہ مقام شوط پر پہنچ کر واپس ہو رہے تھے اور عبداللہ بن حرام انصاری (رضي الله عنه) انہیں سمجھا بجھا کر شریک جنگ کرنے کی کوشش کر رہے تھے (قدرے تفصیل گزر چکی ہے )
***- اپنے نفاق اور ان باتوں کی وجہ سے جو انہوں نے کیں۔
****- یعنی زبان سے تو ظاہر کیا جو مذکور ہوا لیکن دل میں یہ تھا کہ ہماری علیحدگی سے ایک تو مسلمانوں کے اندر بھی ضعف پیدا ہوگا۔ دوسرے، کافروں کو فائدہ ہوگا۔ مقصد اسلام، مسلمانوں اور نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کو نقصان پہنچانا تھا۔
____________________
* یعنی احد میں تمہیں جو کچھ نقصان پہنچا، وہ اللہ کے حکم سے ہی پہنچا ہے (تاکہ آئندہ تم اطاعت رسول کا کما حقہ اہتمام کرو) علاوہ ازیں اس کا ایک مقصد مومنین اور منافقین کو ایک دوسرے سے الگ اور ممتاز کرنا بھی تھا۔
**- لڑائی جاننے کا مطلب یہ ہے کہ اگر واقعی آپ لوگ لڑائی لڑنے چل رہے ہوتے تو ہم بھی ساتھ دیتے۔ مگر آپ تو لڑائی کے بجائے اپنے آپ کو تباہی کے دہانے میں جھونکتے جا رہے ہیں۔ ایسے غلط کام میں ہم کیوں آپ کا ساتھ دیں۔ یہ عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں نے اس لئے کہا کہ ان کی بات نہیں مانی گئی تھی اور اس وقت کہا جب وہ مقام شوط پر پہنچ کر واپس ہو رہے تھے اور عبداللہ بن حرام انصاری (رضي الله عنه) انہیں سمجھا بجھا کر شریک جنگ کرنے کی کوشش کر رہے تھے (قدرے تفصیل گزر چکی ہے )
***- اپنے نفاق اور ان باتوں کی وجہ سے جو انہوں نے کیں۔
****- یعنی زبان سے تو ظاہر کیا جو مذکور ہوا لیکن دل میں یہ تھا کہ ہماری علیحدگی سے ایک تو مسلمانوں کے اندر بھی ضعف پیدا ہوگا۔ دوسرے، کافروں کو فائدہ ہوگا۔ مقصد اسلام، مسلمانوں اور نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کو نقصان پہنچانا تھا۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
167. And He did this in order to demonstrate who the hypocrites were! When they were told to fight in Allah’s path, or to defend their womenfolk and their people, they said, ‘Had we known that you were going to fight properly, then we would have followed you; but you actually throw yourselves to death!’ At that moment, they were closer to showing their disbelief than their faith, saying with their tongues what was not in their hearts. Allah knows best what they hide in their breasts, and will repay them accordingly.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں