سورہ 28 · پارہ 20

سورة القصص · 28:47

وَلَوْلَا أَنْ تُصِيبَهُمْ مُصِيبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ فَيَقُولُوا رَبَّنَا لَوْلَا أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُولًا فَنَتَّبِعَ آيَاتِكَ وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ

اگر یہ بات نہ ہوتی کہ انہیں ان کے اپنے ہاتھوں آگے بھیجے ہوئے اعمال کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچتی تو یہ کہہ اٹھتے کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا؟ کہ ہم تیری آیتوں کی تابعداری کرتے اور ایمان والوں میں سے ہو جاتے.*
____________________
* یعنی ان کے اسی عذر کو ختم کرنے کے لیے ہم نے آپ کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا ہے۔ کیونکہ طول زمانی کی وجہ سے گزشتہ انبیا کی تعلیمات مسخ اور ان کی دعوت فراموش ہوچکی ہے اور ایسے ہی حالات کسی نئے نبی کی ضرورت کے متقاضی ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر آخرالزمان حضرت محمد مصطفیٰ (صلى الله عليه وسلم) کی تعلیمات (قرآن وحدیث) کو مسخ ہونے اور تغییر وتحریف سے محفوظ رکھا ہے اور ایسا تکوینی انتظام فرما دیا ہے جس سے آپ کی دعوت دنیا کے کونے کونے تک پہنچ گئی ہے اور مسلسل پہنچ رہی ہے تاکہ کسی نئے نبی کی ضرورت ہی باقی نہ رہے۔ اور جو شخص اس (ضرورت) کا دعویٰ کرکے نبوت کا ڈھونگ رچاتا ہے، وہ جھوٹا اور دجال ہے۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

47. And if a divine punishment were to afflict them due to the sins and disbelief they were upon, they would have argued: “why did you not send a messenger to us, so we could have followed your ayaat and acted upon them, and have been from the true believers who follow your commandments. If it was not for that we would have hastened the punishment. However, we delayed it so that we may be excused by sending a messenger to them.”

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں