سورہ 28 · پارہ 20
سورة القصص · 28:46
وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّورِ إِذْ نَادَيْنَا وَلَٰكِنْ رَحْمَةً مِنْ رَبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَا أَتَاهُمْ مِنْ نَذِيرٍ مِنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
اور نہ تو طور کی طرف تھا جب کہ ہم نے آواز دی* بلکہ یہ تیرے پروردگار کی طرف سے ایک رحمت ہے**، اس لیے کہ تو ان لوگوں کو ہوشیار کر دے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے واﻻ نہیں پہنچا***، کیا عجب کہ وه نصیحت حاصل کرلیں.
____________________
* یعنی اگر آپ رسول برحق نہ ہوتے تو موسیٰ (عليه السلام) کے اس واقعے کا علم بھی آپ کو نہ ہوتا۔
**- یعنی آپ کا یہ علم، مشاہدہ و رویت کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ آپ کے پروردگار کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو نبی بنایا اور وحی سے نوازا۔
***- اس سے مراد، اہل مکہ اور عرب ہیں جن کی طرف نبی (صلى الله عليه وسلم) سے پہلے کوئی نبی نہیں آیا، کیونکہ حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے بعد نبوت کا سلسلہ خاندان ابراہیمی ہی میں رہا اور ان کی بعثت بنی اسرائیل کی طرف ہی ہوتی رہی۔ بنی اسماعیل یعنی عربوں میں نبی (صلى الله عليه وسلم) پہلے نبی تھے اور سلسلۂ نبوت کے خاتم تھے۔ ان کی طرف نبی بھیجنے کی ضرورت اس لیے نہیں سمجھی گئی ہوگی کہ دوسرے انبیا کی دعوت اور ان کا پیغام ان کو پہنچتا رہا ہوگا۔ کیونکہ اس کے بغیر ان کے لیے کفروشرک پر جمے رہنے کا عذر موجود رہے گا اور یہ عذر اللہ نے کسی کے لیے باقی نہیں چھوڑا ہے۔
____________________
* یعنی اگر آپ رسول برحق نہ ہوتے تو موسیٰ (عليه السلام) کے اس واقعے کا علم بھی آپ کو نہ ہوتا۔
**- یعنی آپ کا یہ علم، مشاہدہ و رویت کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ آپ کے پروردگار کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو نبی بنایا اور وحی سے نوازا۔
***- اس سے مراد، اہل مکہ اور عرب ہیں جن کی طرف نبی (صلى الله عليه وسلم) سے پہلے کوئی نبی نہیں آیا، کیونکہ حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے بعد نبوت کا سلسلہ خاندان ابراہیمی ہی میں رہا اور ان کی بعثت بنی اسرائیل کی طرف ہی ہوتی رہی۔ بنی اسماعیل یعنی عربوں میں نبی (صلى الله عليه وسلم) پہلے نبی تھے اور سلسلۂ نبوت کے خاتم تھے۔ ان کی طرف نبی بھیجنے کی ضرورت اس لیے نہیں سمجھی گئی ہوگی کہ دوسرے انبیا کی دعوت اور ان کا پیغام ان کو پہنچتا رہا ہوگا۔ کیونکہ اس کے بغیر ان کے لیے کفروشرک پر جمے رہنے کا عذر موجود رہے گا اور یہ عذر اللہ نے کسی کے لیے باقی نہیں چھوڑا ہے۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
46. Neither were you present at the side of mount Sinai when I called out to Moses and revealed whatever I revealed to him, so that you could relate that to the people either. Rather, I sent you as a mercy from your Lord to the people and revealed that incident to you, so that you could warn a nation to whom no Messenger had come prior to yourself, perhaps they would take heed and believe in whatever was brought to them from Allah, may He be glorified.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں