سورہ 28 · پارہ 20
سورة القصص · 28:19
فَلَمَّا أَنْ أَرَادَ أَنْ يَبْطِشَ بِالَّذِي هُوَ عَدُوٌّ لَهُمَا قَالَ يَا مُوسَىٰ أَتُرِيدُ أَنْ تَقْتُلَنِي كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا بِالْأَمْسِ ۖ إِنْ تُرِيدُ إِلَّا أَنْ تَكُونَ جَبَّارًا فِي الْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْمُصْلِحِينَ
پھر جب اپنے اور اس کے دشمن کو پکڑنا چاہا* وه فریادی کہنے لگا کہ** موسیٰ (علیہ السلام) کیا جس طرح تو نے کل ایک شخص کو قتل کیا ہے مجھے بھی مار ڈالنا چاہتا ہے، تو تو ملک میں ﻇالم وسرکش ہونا ہی چاہتا ہے اور تیرا یہ اراده ہی نہیں کہ ملاپ کرنے والوں میں سے ہو.
____________________
* یعنی حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے چاہا کہ قبطی کو پکڑ لیں، کیونکہ وہی حضرت موسیٰ (عليه السلام) اور بنی اسرائیل کا دشمن تھا، تاکہ لڑائی زیادہ نہ بڑھے۔
**- فریادی (اسرائیلی) سمجھا کہ موسیٰ (عليه السلام) شاید اسے پکڑنے لگے ہیں تو وہ بول اٹھا کہ اے موسیٰ ! أَتُرِيدُ أَنْ تَقْتُلَنِي...... جس سے قبطی کے علم میں یہ بات آگئی کہ کل جو قتل ہوا تھا، اس کا قاتل موسیٰ (عليه السلام) ہے، اس نے جاکر فرعون کو بتلا دیا جس پر فرعون نے اس کے بدلے میں موسیٰ (عليه السلام) کو قتل کرنے کا عزم کرلیا۔
____________________
* یعنی حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے چاہا کہ قبطی کو پکڑ لیں، کیونکہ وہی حضرت موسیٰ (عليه السلام) اور بنی اسرائیل کا دشمن تھا، تاکہ لڑائی زیادہ نہ بڑھے۔
**- فریادی (اسرائیلی) سمجھا کہ موسیٰ (عليه السلام) شاید اسے پکڑنے لگے ہیں تو وہ بول اٹھا کہ اے موسیٰ ! أَتُرِيدُ أَنْ تَقْتُلَنِي...... جس سے قبطی کے علم میں یہ بات آگئی کہ کل جو قتل ہوا تھا، اس کا قاتل موسیٰ (عليه السلام) ہے، اس نے جاکر فرعون کو بتلا دیا جس پر فرعون نے اس کے بدلے میں موسیٰ (عليه السلام) کو قتل کرنے کا عزم کرلیا۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
19. So when Moses (peace be upon him) intended to strike the Copt who was his and the caller’s enemy, the Copt said: “Do you intend to kill me just like you killed another yesterday? You only wish to become a tyrant on Earth by killing people and oppressing them; you have no desire to be one of those who reconcile between those who dispute!”
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں