سورہ 28 · پارہ 20

سورة القصص · 28:18

فَأَصْبَحَ فِي الْمَدِينَةِ خَائِفًا يَتَرَقَّبُ فَإِذَا الَّذِي اسْتَنْصَرَهُ بِالْأَمْسِ يَسْتَصْرِخُهُ ۚ قَالَ لَهُ مُوسَىٰ إِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُبِينٌ

صبح ہی صبح ڈرتے* اندیشہ کی حالت میں خبریں لینے کو شہر میں گئے، کہ اچانک وہی شخص جس نے کل ان سے مدد طلب کی تھی ان سے فریاد کر رہا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے کہا کہ اس میں شک نہیں تو تو صریح بے راه ہے.**
____________________
* خَائِفًا کے معنی ڈرتے ہوئے يَتَرَقَّبُ، ادھر ادھر جھانکتے اور اپنے بارے میں اندیشوں میں مبتلا۔
**- یعنی حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے اس کو ڈانٹا کہ تو کل بھی لڑتا ہوا پایا گیا تھا اور آج پھر تو کسی سے دست بہ گریبان ہے، تو تو صریح بےراہ یعنی جھگڑالو ہے۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

18. After the incident of killing the Copt, Moses awoke in the morning anxious as to what may happen. Suddenly, the very same person who had sought his aid and assistance against an enemy Copt the previous day, was now seeking his assistance against another Copt. Moses said to him, “Indeed, you are misguided and a clear inciter!”

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں