سورہ 23 · پارہ 18

سورة المؤمنون · 23:41

فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنَاهُمْ غُثَاءً ۚ فَبُعْدًا لِلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ

بالﺂخر عدل کے تقاضے کے مطابق چیﺦ* نے پکڑ لیا اور ہم نے انہیں کوڑا کرکٹ کر ڈاﻻ**، پس ﻇالموں کے لئے دوری ہو.
____________________
* یہ چیخ کہتے ہیں کہ حضرت جبرائیل (عليه السلام) کی چیخ تھی، بعض کہتے ہیں کہ ویسے ہی سخت چیخ تھی، جس کے ساتھ باد صر صر بھی تھی۔ دونوں نے مل کر ان کو چشم زدن میں فنا کے گھاٹ اتار دیا۔
**- غُثْآءَ اس کوڑے کرکٹ کو کہتے ہیں جو سیلابی پانی کے ساتھ ہوتا ہے، جس میں درختوں کے پتے، خشک تنے، تنکے اور اسی طرح کی چیزیں ہوتی ہیں۔ جب پانی کا زور ختم ہو جاتا ہے، تو خشک ہو کر بیکار پڑے ہوتے ہیں، یہی حال ان منکرین اور متکبرین کا ہوا۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

41. So a severe scream, accompanied by a severe wind, took them by surprise, due to their deserving the punishment owing to their stubbornness. I destroyed them, leaving them like the froth of the flood. Woe be to the transgressing nation!

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں