سورہ 23 · پارہ 18
سورة المؤمنون · 23:40
قَالَ عَمَّا قَلِيلٍ لَيُصْبِحُنَّ نَادِمِينَ
جواب ملا کہ یہ تو بہت ہی جلد اپنے کئے پر پچھتانے لگیں گے.*
____________________
* عَمَّا میں ”ما“ زائد ہے جو جار مجرور کے درمیان، قلت زمان کی تاکید کے لیے آیا ہے جیسے «فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ» (آل عمران۔159) میں ”ما“ زائد ہے یعنی بہت جلد عذاب آنا ہے جس پر یہ پچھتائیں گے۔ لیکن اس وقت یہ پچھتاوا ان کے کچھ کام نہ آئے گا۔ یعنی بہت جلد عذاب آنے والا ہے، جس پر یہ پچھتائیں گے۔ لیکن اس وقت یہ پچھتانا ان کے کچھ کام نہ آئے گا۔
____________________
* عَمَّا میں ”ما“ زائد ہے جو جار مجرور کے درمیان، قلت زمان کی تاکید کے لیے آیا ہے جیسے «فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ» (آل عمران۔159) میں ”ما“ زائد ہے یعنی بہت جلد عذاب آنا ہے جس پر یہ پچھتائیں گے۔ لیکن اس وقت یہ پچھتاوا ان کے کچھ کام نہ آئے گا۔ یعنی بہت جلد عذاب آنے والا ہے، جس پر یہ پچھتائیں گے۔ لیکن اس وقت یہ پچھتانا ان کے کچھ کام نہ آئے گا۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
40. Allah responded to him, saying, “Very soon, these people who have rejected the message you have brought to them will regret their rejection.”
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں