سورہ 22 · پارہ 17

سورة الحج · 22:56

الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ لِلَّهِ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ ۚ فَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ

اس دن صرف اللہ ہی کی بادشاہت ہوگی* وہی ان میں فیصلے فرمائے گا۔ ایمان اور نیک عمل والے تو نعمتوں سے بھری جنتوں میں ہوں گے.
____________________
* یعنی دنیا میں تو عارضی طور پر بطور انعام یا بطور امتحان لوگوں کو بھی بادشاہتیں اور اختیار و اقتدار مل جاتا ہے لیکن آخرت میں کسی کے پاس بھی کوئی بادشاہت اور اختیار نہیں ہوگا۔ صرف ایک اللہ کی بادشاہی اور اس کی فرمان روائی ہوگی، اسی کا مکمل اختیار اور غلبہ ہوگا، «الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَنِ وَكَانَ يَوْمًا عَلَى الْكَافِرِينَ عَسِيرًا »(الفرقان:26) ”بادشاہی اس دن ثابت ہے واسطے رحمان کے اور یہ دن کافروں پر سخت بھاری ہوگا“،«لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» (المومن:16)۔ اللہ تعالٰی پوچھے گا ”آج کس کی بادشاہی ہے؟“ پھر خود ہی جواب دے گا ”ایک اللہ غالب کی“۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

56. Supreme authority on the Day of Judgment - the day when the punishment these people have been promised shall come to them, will only be for Allah alone. He will have no competitor for it, and He will judge between the believers and the disbelievers. He will judge for each of them as they deserve: those who had faith and performed good deeds will be granted a great reward in eternal gardens of everlasting bounties.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں