سورہ 22 · پارہ 17

سورة الحج · 22:55

وَلَا يَزَالُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي مِرْيَةٍ مِنْهُ حَتَّىٰ تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً أَوْ يَأْتِيَهُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَقِيمٍ

کافر اس وحی الٰہی میں ہمیشہ شک شبہ ہی کرتے رہیں گے حتیٰ کہ اچانک ان کے سروں پر قیامت آجائے یا ان کے پاس اس دن کا عذاب آجائے جو منحوس ہے.*
____________________
* یَوْمِ عَقِیْمِ (بانجھ دن) سے مراد قیامت کا دن ہے۔ اسے عقیم اس لئے کہا گیا ہے کہ اس کے بعد کوئی دن نہیں ہوگا، جس طرح عقیم اس کو کہا جاتا ہے جس کی اولاد نہ ہو۔ یا اس لئے کہ کافروں کے لئے اس دن کوئی رحمت نہیں ہوگی، گویا ان کے لئے خیر سے خالی ہوگا۔ جس طرح باد تند کو، جو بطور عذاب کے آتی رہی ہے الرِّیْحَ الْعَقِیْمَ کہا گیا ہے۔ «اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيْحَ الْعَقِيْمَ» (الذاریات:41) ”جب ہم نے ان پر بانجھ ہوا بھیجی“۔ یعنی ایسی ہوا جس میں کوئی خیر تھی نہ بارش کی نوید۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

55. Those who disbelieved in Allah and denied His Messenger will remain in doubt about the Qur’ān Allah revealed to you, continuing until the Hour comes to them suddenly whilst they are in that condition or the punishment of a day in which there is no mercy or good comes to them, and it is the Day of Judgment with respect to them.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں