سورہ 2 · پارہ 1

سورة البقرة · 2:88

وَقَالُوا قُلُوبُنَا غُلْفٌ ۚ بَلْ لَعَنَهُمُ اللَّهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِيلًا مَا يُؤْمِنُونَ

یہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل غلاف والے ہیں* نہیں نہیں بلکہ ان کے کفر کی وجہ سے انہیں اللہ تعالیٰ نے ملعون کردیا ہے، ان کا ایمان بہت ہی تھوڑا ہے۔**
____________________
*یعنی ہم پر اے محمد ( (صلى الله عليه وسلم) ) تیری باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا، جس طرح دوسرے مقام پر ہے: «وَقَالُوا قُلُوبُنَا فِي أَكِنَّةٍ مِمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ» (حٰم السجدۂ: 5) ”ہمارے دل اس دعوت سے پردے میں ہیں، جس کی طرف تو ہمیں بلاتا ہے۔“
**- دلوں پر حق بات کا اثر نہ کرنا، کوئی فخر کی بات نہیں۔ بلکہ یہ تو ملعون ہونے کی علامت ہے، پس ان کا ایمان بھی تھوڑا ہے (جو عنداللہ نامقبول ہے) یا ان میں ایمان لانے والے کم ہی لوگ ہوں گے۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

88. The Israelites argued that their stubbornness was because their hearts were wrapped in a cover, so that none of what was said to them could reach them, or make sense to them. On the contrary, Allah deprived them of His mercy due to their disbelief, so that they will not have faith.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں