سورہ 2 · پارہ 1
سورة البقرة · 2:87
وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَقَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ ۖ وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ ۗ أَفَكُلَّمَا جَاءَكُمْ رَسُولٌ بِمَا لَا تَهْوَىٰ أَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ فَفَرِيقًا كَذَّبْتُمْ وَفَرِيقًا تَقْتُلُونَ
ہم نے (حضرت) موسیٰ کو کتاب دی اور ان کے پیچھے اور رسول بھیجے اور ہم نے (حضرت) عیسیٰ ابن مریم کو روشن دلیلیں دیں اور روح القدس سے ان کی تائید کروائی*۔ لیکن جب کبھی تمہارے پاس رسول وه چیز ﻻئے جو تمہاری طبیعتوں کے خلاف تھی، تم نے جھٹ سے تکبر کیا، پس بعض کو تو جھٹلادیا اور بعض کو قتل بھی کرڈاﻻ۔**
____________________
*«وَقَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ» کے معنی ہیں کہ موسیٰ (عليه السلام) کے بعد مسلسل پیغمبر آتے رہے، حتیٰ کہ بنی اسرائیل میں انبیاکا یہ سلسلہ حضرت عیسیٰ (عليه السلام) پر ختم ہوگیا۔ «بَيِّنَاتٌ» سے معجزات مراد ہیں جو حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کو دیئے گئے۔ جیسے مردوں کو زندہ کرنا، کوڑھی اور اندھے کو صحت یاب کرنا وغیرہ، جن کا ذکر سورۂ آل عمران (آیت 49) میں ہے۔ "رُوحُ الْقُدُسِ" سے مراد حضرت جبریل (عليه السلام) ہیں، ان کو (روح القدس)اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ امرتکوینی سے ظہور میں آئے تھے، جیسا کہ خود حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کو رُوحٌ کہا گیا ہے اور الْقُدُس سے ذات الٰہی مراد ہے اور اس کی طرف روح کی اضافت تشریفی ہے۔ ابن جریر نے اسی کو صحیح تر قرار دیا ہے، کیونکہ المائدۂ (آیت 10) میں (روح القدس) اور انجیل دونوں الگ الگ مذکور ہیں اس لئے (روح القدس) سے انجیل مراد نہیں ہوسکتی ایک اور آیت میں حضرت جبریل (عليه السلام) کو «الرُّوحُ الأَمِينُ» فرمایا گیا ہے اور آنحضرت (صلى الله عليه وسلم) نے حضرت حسان! کے متعلق فرمایا :«اللَّهُمَّ! أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ»۔ ”اے اللہ روح القدس سے اس کی تائید فرما۔“ ایک دوسری حدیث میں ہے «وَجِبْريلُ مَعَكَ»۔ ”جبریل (عليه السلام) تمہارے ساتھ ہیں۔“ معلوم ہوا کہ روح القدس سے مراد حضرت جبریل (عليه السلام) ہی ہیں، (فتح البیان، ابن کثیر بحوالہ اشرف الحواشی)
**- جیسے حضرت محمد (صلى الله عليه وسلم) اور حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کو جھٹلایا اورحضرت زکریا ویحییٰ علیھماالسلام کو قتل کیا۔
____________________
*«وَقَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ» کے معنی ہیں کہ موسیٰ (عليه السلام) کے بعد مسلسل پیغمبر آتے رہے، حتیٰ کہ بنی اسرائیل میں انبیاکا یہ سلسلہ حضرت عیسیٰ (عليه السلام) پر ختم ہوگیا۔ «بَيِّنَاتٌ» سے معجزات مراد ہیں جو حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کو دیئے گئے۔ جیسے مردوں کو زندہ کرنا، کوڑھی اور اندھے کو صحت یاب کرنا وغیرہ، جن کا ذکر سورۂ آل عمران (آیت 49) میں ہے۔ "رُوحُ الْقُدُسِ" سے مراد حضرت جبریل (عليه السلام) ہیں، ان کو (روح القدس)اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ امرتکوینی سے ظہور میں آئے تھے، جیسا کہ خود حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کو رُوحٌ کہا گیا ہے اور الْقُدُس سے ذات الٰہی مراد ہے اور اس کی طرف روح کی اضافت تشریفی ہے۔ ابن جریر نے اسی کو صحیح تر قرار دیا ہے، کیونکہ المائدۂ (آیت 10) میں (روح القدس) اور انجیل دونوں الگ الگ مذکور ہیں اس لئے (روح القدس) سے انجیل مراد نہیں ہوسکتی ایک اور آیت میں حضرت جبریل (عليه السلام) کو «الرُّوحُ الأَمِينُ» فرمایا گیا ہے اور آنحضرت (صلى الله عليه وسلم) نے حضرت حسان! کے متعلق فرمایا :«اللَّهُمَّ! أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ»۔ ”اے اللہ روح القدس سے اس کی تائید فرما۔“ ایک دوسری حدیث میں ہے «وَجِبْريلُ مَعَكَ»۔ ”جبریل (عليه السلام) تمہارے ساتھ ہیں۔“ معلوم ہوا کہ روح القدس سے مراد حضرت جبریل (عليه السلام) ہی ہیں، (فتح البیان، ابن کثیر بحوالہ اشرف الحواشی)
**- جیسے حضرت محمد (صلى الله عليه وسلم) اور حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کو جھٹلایا اورحضرت زکریا ویحییٰ علیھماالسلام کو قتل کیا۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
87. Allah gave Moses the Torah, and followed him with other messengers. He gave Jesus, the son of Mary, clear signs of the truth of what he came with, such as bringing the dead back to life and healing the blind and the lepers, and He strengthened him with the angel Gabriel, the Holy Spirit (peace be upon him). Yet is it, O Israelites, that whenever a messenger comes to you from Allah with what does not agree with your whims, you become full of pride towards the truth, looking down on the messengers of Allah? Do you reject a group of them and kill a group of them?
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں