سورہ 2 · پارہ 1
سورة البقرة · 2:4
وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ
اور جو لوگ ایمان ﻻتے ہیں اس پر جو آپ کی طرف اتارا گیا اور جو آپ سے پہلے اتارا گیا*، اور وه آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں۔
____________________
*پچھلی کتابوں پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ جو کتابیں انبیا (عليهم السلام) پر نازل ہوئیں، وہ سب سچی ہیں، وہ اب اپنی اصلی شکل میں دنیا میں پائی نہیں جاتیں، نیز اب ان پر عمل بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اب عمل صرف قرآن اور اس کی تشریح نبوی۔ حدیث۔ پر ہی کیا جائے گا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وحی ورسالت کا سلسلہ آنحضرت (صلى الله عليه وسلم) پر ختم کردیا گیا ہے، ورنہ اس پر بھی ایمان لانے کا ذکر اللہ تعالیٰ ضرور فرماتا۔
____________________
*پچھلی کتابوں پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ جو کتابیں انبیا (عليهم السلام) پر نازل ہوئیں، وہ سب سچی ہیں، وہ اب اپنی اصلی شکل میں دنیا میں پائی نہیں جاتیں، نیز اب ان پر عمل بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اب عمل صرف قرآن اور اس کی تشریح نبوی۔ حدیث۔ پر ہی کیا جائے گا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وحی ورسالت کا سلسلہ آنحضرت (صلى الله عليه وسلم) پر ختم کردیا گیا ہے، ورنہ اس پر بھی ایمان لانے کا ذکر اللہ تعالیٰ ضرور فرماتا۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
4. They believe in the revelation that Allah sent down to you, O Prophet, and in that which He revealed to all the other prophets before you (peace be upon them), without distinction; and they have a definite belief in the Afterlife, with its rewards and punishments.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں