سورہ 2 · پارہ 1

سورة البقرة · 2:3

الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ

جو لوگ غیب پر ایمان ﻻتے ہیں* اور نماز کو قائم رکھتے ہیں** اور ہمارے دیئے ہوئے (مال) میں سے خرچ کرتے ہیں۔***
____________________
*أُمُورٌ غَيْبِيَّةٌ سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کا ادراک عقل وحواس سے ممکن نہیں۔ جیسے ذات باری تعالیٰ، وحی الٰہی، جنت، دوزخ، ملائکہ، عذاب قبر اور حشراجساد وغیرہ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ اور رسول (صلى الله عليه وسلم) کی بتلائی ہوئی ماورائے عقل واحساس باتوں پر یقین رکھنا، جزو ایمان ہے اور ان کا انکار کفروضلالت ہے۔
**- اقامت صلوٰۃ سے مراد پابندی سے اور سنت نبوی کے مطابق نماز کا اہتمام کرنا ہے، ورنہ نماز تو منافقین بھی پڑھتے تھے۔
***- إِنْفَاقٌ کا لفظ عام ہے، جو صدقات واجبہ اور نافلہ دونوں کو شامل ہے۔ اہل ایمان حسب استطاعت دونوں میں کوتاہی نہیں کرتے، بلکہ ماں باپ اور اہل وعیال پر صحیح طریقے سے خرچ کرنا بھی اس میں داخل ہے اور باعث اجر وثواب ہے۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

4. They believe in the revelation that Allah sent down to you, O Prophet, and in that which He revealed to all the other prophets before you (peace be upon them), without distinction; and they have a definite belief in the Afterlife, with its rewards and punishments.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں