سورہ 17 · پارہ 15

سورة الإسراء · 17:104

وَقُلْنَا مِنْ بَعْدِهِ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ اسْكُنُوا الْأَرْضَ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا

اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے فرما دیا کہ اس سرزمین* پر تم رہو سہو۔ ہاں جب آخرت کا وعده آئے گا ہم تم سب کو سمیٹ اور لپیٹ کر لے آئیں گے.
____________________
* بظاہر اس سرزمین جس سے فرعون نے موسیٰ (عليه السلام) اور ان کی قوم کو نکالنے کا ارادہ کیا تھا۔ مگر تاریخ بنی اسرائیل کی شہادت یہ ہے کہ مصر سے نکلنے کے بعد دوبارہ مصر نہیں گئے، بلکہ چالیس سال میدان تیہ میں گزار کر فلسطین میں داخل ہوئے۔ اس کی شہادت سورہ اعراف وغیرہ میں قرآن کے بیان سے ملتی ہے۔ اس لئے صحیح یہی ہے کہ اس سے مراد فلسطین کی سرزمین ہے۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

104. And I said to the Israelites after destroying Pharaoh and his armies: Settle in the land of the Levant. Then when the Day of Judgment comes, I shall bring you all to the plain of gathering for the accounting.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں

سورة الإسراء 17:104 · Tlawati