سورہ 12 · پارہ 13
سورة يوسف · 12:88
فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ قَالُوا يَا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهْلَنَا الضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُزْجَاةٍ فَأَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّ اللَّهَ يَجْزِي الْمُتَصَدِّقِينَ
پھر جب یہ لوگ یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے* تو کہنے لگے کہ اے عزیز! ہم کو اور ہمارے خانداں کو دکھ پہنچا ہے**۔ ہم حقیر پونجی ﻻئے ہیں پس آپ ہمیں پورے غلہ کا ناپ دیجئے*** اور ہم پر خیرات کیجئے****، اللہ تعالیٰ خیرات کرنے والوں کو بدلہ دیتا ہے.
____________________
* یہ تیسری مرتبہ ان کا مصر جانا ہے۔
**- یعنی غلہ لینے کے لئے ہم جو ثمن (قیمت) لے کر آئے ہیں، وہ نہایت قلیل اور حقیر ہے۔
***- یعنی ہماری حقیر پونجی کو نہ دیکھیں، ہمیں اس کے بدلے میں پورا ناپ دیں۔
****- یعنی ہماری حقیر پونجی قبول کر کے ہم پر احسان اور خیرات کریں۔ اور بعض مفسرین نے اس کے معنی کیے ہیں کہ ہمارے بھائی بنیامین کو آزاد کر کے ہم پر احسان فرمائیں۔
____________________
* یہ تیسری مرتبہ ان کا مصر جانا ہے۔
**- یعنی غلہ لینے کے لئے ہم جو ثمن (قیمت) لے کر آئے ہیں، وہ نہایت قلیل اور حقیر ہے۔
***- یعنی ہماری حقیر پونجی کو نہ دیکھیں، ہمیں اس کے بدلے میں پورا ناپ دیں۔
****- یعنی ہماری حقیر پونجی قبول کر کے ہم پر احسان اور خیرات کریں۔ اور بعض مفسرین نے اس کے معنی کیے ہیں کہ ہمارے بھائی بنیامین کو آزاد کر کے ہم پر احسان فرمائیں۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
88. So they did as their father instructed, and went in search of Joseph and his brother. When they came before Joseph, they said they had experienced hardship and poverty and had brought inferior, cheap goods. They asked him to give them a sufficient measure, as he had given them before, and to be charitable to them by giving them more than this, or overlooking their poor merchandise, saying that Allah rewards those who are charitable with the best of rewards.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں