سورہ 12 · پارہ 13

سورة يوسف · 12:87

يَا بَنِيَّ اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِنْ يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَيْأَسُوا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ ۖ إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ

میرے پیارے بچو! تم جاؤ اور یوسف (علیہ السلام) کی اور اس کے بھائی کی پوری طرح تلاش کرو* اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ یقیناً رب کی رحمت سے ناامید وہی ہوتے ہیں جو کافر ہوتے ہیں.**
____________________
* چنانچہ اس یقین سے سرشار ہو کر انہوں نے اپنے بیٹوں کو یہ حکم دیا۔
**- جس طرح دوسرے مقام پر اللہ تعالٰی نے فرمایا «قَالَ وَمَنْ يَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖٓ اِلَّا الضَّاۗلُّوْنَ» (الحجر:56) ”گمراہ لوگ ہی اللہ کی رحمت سے نا امید ہوتے ہیں“ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کو سخت حالات میں بھی صبر و رضا کا اور اللہ کی رحمت واسعہ کی امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیئے۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

87. Their father told them to go and find out news about Joseph and his brother, and not to despair of relief from Allah and His release of His servants. Without doubt, only disbelieving people despair of relief from Allah and His release of His servants, because they do not know the greatness of Allah’s power and His subtle favour upon His servants.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں