تفسير السعدي

سورة هود · 11:13

أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو اسی نے گھڑا ہے۔ جواب دیجئے کہ پھر تم بھی اسی کی مثل دس سورتیں گھڑی ہوئی لے آؤ اور اللہ کے سوا جسے چاہو اپنے ساتھ بلا بھی لو اگر تم سچے ہو.*
____________________
* امام ابن کثیر لکھتے ہیں کہ پہلے اللہ تعالٰی نے چلینج دیا کہ اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے کہ یہ محمد (صلى الله عليه وسلم) کا بنایا ہوا قرآن ہے، تو اس کی نظیر پیش کر کے دکھا دو، اور تم جس کی چاہو، مدد حاصل کر لو، لیکن تم کبھی ایسا نہیں کر سکو گے۔ فرمایا «قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓي اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا»(الاسراء:88) «اعلان کر دیجئے کہ اگر تمام انسان اور کل جنات مل کر اس قرآن کے مثل لانا چاہیں تو ان سب سے اس کے مثل لانا مشکل ہے، گو وہ آپس میں ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں»۔ اس کے بعد اللہ تعالٰی نے یہ چیلنج دیا کہ پورا قرآن بنا کر پیش نہیں کر سکتے تو دس سورتیں ہی بنا کر پیش کر دو۔ جیسا کہ اس مقام پر ہے۔ پھر تیسرے نمبر پر چیلنج دیا کہ چلو ایک سورت بنا کر پیش کرو جیسا کہ سورہ یونس کی آیت نمبر ۳۹ اور سورہ بقرہ کے آغاز میں فرمایا (تفسیر ابن کثیر، زیر بحث آیت سورہ یونس) اور اس بنا پر آخری چیلنچ یہ ہو سکتا ہے کہ اس جیسی ایک بات ہی بنا کر پیش کر دو۔ «فَلْيَاْتُوْا بِحَدِيْثٍ مِّثْلِهٖٓ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِيْنَ» (الطور:34) مگر ترتیب نزول سے چیلنج کی اس ترتیب کی تائید نہیں ہوتی۔ واللہ اعلم با الصواب۔

یہ تفسیر عربی میں ہے۔ آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ المختصر انگریزی میں پڑھیں: المختصر (إنجليزي)

﴿أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ * فَإِنْ لَمْ يَسْتَجِيبُوا لَكُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا أُنْزِلَ بِعِلْمِ اللَّهِ وَأَنْ لا إِلَهَ إِلا هُوَ فَهَلْ أَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾.
﴿أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ﴾ أي: افترى محمد هذا القرآن؟
فأجابهم بقوله: ﴿قُلْ﴾ لهم ﴿فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴾ أنه قد افتراه (١)، فإنه لا فرق بينكم وبينه في الفصاحة والبلاغة، وأنتم الأعداء حقا، الحريصون بغاية ما يمكنكم على إبطال دعوته، فإن كنتم صادقين، فأتوا بعشر سور مثله مفتريات.
﴿فَإِنْ لَمْ يَسْتَجِيبُوا لَكُمْ﴾ على شيء من ذلكم ﴿فَاعْلَمُوا أَنَّمَا أُنزلَ بِعِلْمِ اللَّهِ﴾ [من عند الله] (٢) لقيام الدليل والمقتضي، وانتفاء المعارض.
﴿وَأَنْ لا إِلَهَ إِلا هُوَ﴾ أي: واعلموا أَنَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ أي: هو وحده المستحق للألوهية والعبادة، ﴿فَهَلْ أَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ أي: منقادون لألوهيته، مستسلمون لعبوديته، وفي هذه الآيات إرشاد إلى أنه لا ينبغي للداعي إلى الله أن يصده اعتراض المعترضين، ولا قدح القادحين.
خصوصا إذا كان القدح لا مستند له، ولا يقدح فيما دعا إليه، وأنه لا يضيق صدره، بل يطمئن بذلك، ماضيا على أمره، مقبلا على شأنه، وأنه لا يجب إجابة اقتراحات المقترحين للأدلة التي يختارونها. بل يكفي إقامة الدليل السالم عن المعارض، على جميع المسائل والمطالب. وفيها أن هذا القرآن، معجز بنفسه، لا يقدر أحد من البشر أن يأتي بمثله، ولا بعشر سور من مثله، بل ولا بسورة من مثله، لأن الأعداء البلغاء الفصحاء، تحداهم الله بذلك، فلم يعارضوه، لعلمهم أنهم لا قدرة فيهم على ذلك.
وفيها: أن مما يطلب فيه العلم، ولا يكفي غلبة الظن، علم القرآن، وعلم التوحيد، لقوله تعالى: ﴿فَاعْلَمُوا أَنَّمَا أُنزلَ بِعِلْمِ اللَّهِ وَأَنْ لا إِلَهَ إِلا هُوَ﴾.
(١) في ب: أي: أنه قد افتراه.
(٢) في ب: " فاعلموا أنما أنزل بعلم الله " [من عند الله] والجملة الأخيرة قد شطبت في أ.

11:13 · تفسير السعدي