تفسير السعدي
سورة يونس · 10:21
وَإِذَا أَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِنْ بَعْدِ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُمْ إِذَا لَهُمْ مَكْرٌ فِي آيَاتِنَا ۚ قُلِ اللَّهُ أَسْرَعُ مَكْرًا ۚ إِنَّ رُسُلَنَا يَكْتُبُونَ مَا تَمْكُرُونَ
اور جب ہم لوگوں کو اس امر کے بعد کہ ان پر کوئی مصیبت پڑ چکی ہو کسی نعمت کامزه چکھا دیتے ہیں* تو وه فوراً ہی ہماری آیتوں کے بارے میں چالیں چلنے لگتے ہیں**، آپ کہہ دیجئے کہ اللہ چال چلنے میں تم سے زیاده تیز ہے***، بالیقین ہمارے فرشتے تمہاری سب چالوں کو لکھ رہے ہیں.
____________________
* مصیبت کے بعد نعمت کا مطلب ہے۔ تنگی، قحط سالی اور آلام و مصائب کے بعد، رزق کی فروانی، اسباب معیشت کی ارزانی وغیرہ۔
**- اس کا مطلب ہے کہ ہماری ان نعمتوں کی قدر اور ان پر اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے بلکہ کفر اور شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ یعنی ان کی وہ بری تدبیر ہے جو اللہ کی نعمتوں کے مقابلے میں اختیار کرتے ہیں۔
***- یعنی اللہ کی تدبیر ان سے کہیں زیادہ تیز ہے جو وہ اختیار کرتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ ان کا مواخذہ کرنے پر قادر ہے، وہ جب چاہے ان کی گرفت کر سکتا ہے، فوراً بھی اور اس کی حکمت تاخیر کا تقاضا کرنے والی ہو تو بعد میں بھی۔ مکر، عربی زبان میں خفیہ تدبیر اور حکمت عملی کو کہتے ہیں، جو اچھی بھی ہوسکتی ہے اور بری بھی۔ یہاں اللہ کی عقوبت اور گرفت کو مکر سے تعبیر کیا گیا ہے۔
____________________
* مصیبت کے بعد نعمت کا مطلب ہے۔ تنگی، قحط سالی اور آلام و مصائب کے بعد، رزق کی فروانی، اسباب معیشت کی ارزانی وغیرہ۔
**- اس کا مطلب ہے کہ ہماری ان نعمتوں کی قدر اور ان پر اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے بلکہ کفر اور شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ یعنی ان کی وہ بری تدبیر ہے جو اللہ کی نعمتوں کے مقابلے میں اختیار کرتے ہیں۔
***- یعنی اللہ کی تدبیر ان سے کہیں زیادہ تیز ہے جو وہ اختیار کرتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ ان کا مواخذہ کرنے پر قادر ہے، وہ جب چاہے ان کی گرفت کر سکتا ہے، فوراً بھی اور اس کی حکمت تاخیر کا تقاضا کرنے والی ہو تو بعد میں بھی۔ مکر، عربی زبان میں خفیہ تدبیر اور حکمت عملی کو کہتے ہیں، جو اچھی بھی ہوسکتی ہے اور بری بھی۔ یہاں اللہ کی عقوبت اور گرفت کو مکر سے تعبیر کیا گیا ہے۔
یہ تفسیر عربی میں ہے۔ آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ المختصر انگریزی میں پڑھیں: المختصر (إنجليزي)
{٢١} ﴿وَإِذَا أَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِنْ بَعْدِ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُمْ إِذَا لَهُمْ مَكْرٌ فِي آيَاتِنَا قُلِ اللَّهُ أَسْرَعُ مَكْرًا إِنَّ رُسُلَنَا يَكْتُبُونَ مَا تَمْكُرُونَ﴾.
يقول تعالى: ﴿وَإِذَا أَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِنْ بَعْدِ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُمْ﴾ كالصحة بعد المرض، والغنى بعد الفقر، والأمن بعد الخوف، نسوا ما أصابهم من الضراء، ولم يشكروا الله على الرخاء والرحمة، بل استمروا في طغيانهم ومكرهم.
ولهذا قال: ﴿إِذَا لَهُمْ مَكْرٌ فِي آيَاتِنَا﴾ أي يسعون بالباطل، ليبطلوا به الحق.
﴿قُلِ اللَّهُ أَسْرَعُ مَكْرًا﴾ فإن المكر السيئ لا يحيق إلا بأهله، فمقصودهم منعكس عليهم، ولم يسلموا من التبعة، بل تكتب الملائكة عليهم ما يعملون، ويحصيه الله عليهم، ثم يجازيهم [الله] عليه أوفر الجزاء.
يقول تعالى: ﴿وَإِذَا أَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِنْ بَعْدِ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُمْ﴾ كالصحة بعد المرض، والغنى بعد الفقر، والأمن بعد الخوف، نسوا ما أصابهم من الضراء، ولم يشكروا الله على الرخاء والرحمة، بل استمروا في طغيانهم ومكرهم.
ولهذا قال: ﴿إِذَا لَهُمْ مَكْرٌ فِي آيَاتِنَا﴾ أي يسعون بالباطل، ليبطلوا به الحق.
﴿قُلِ اللَّهُ أَسْرَعُ مَكْرًا﴾ فإن المكر السيئ لا يحيق إلا بأهله، فمقصودهم منعكس عليهم، ولم يسلموا من التبعة، بل تكتب الملائكة عليهم ما يعملون، ويحصيه الله عليهم، ثم يجازيهم [الله] عليه أوفر الجزاء.